سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(51) نماز میں امام کو لقمہ دینا

  • 19700
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-28
  • مشاہدات : 206

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فرض یا نفل نما میں قرآءت کے وقت بھولنے پر امام کو لقمہ دینے کی کیا دلیل ہے؟قرآن و حدیث سےوضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فرض یا نفل نمازمیں قرآءت کے وقت بھولنے پر امام کو لقمہ دے دیا جائے تو اس سے نماز فاسدنہیں ہوتی بلکہ ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ایک دفعہ نماز  میں قرآءت فرما رہے تھے۔آپ نے ایک آیت کو چھوڑدیا۔ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  !آپ نے دوران قرآءت ایک آیت چھوڑدی تھی تو آپ نے فرمایا:’’تم نے وہ آیت مجھے یاد کیوں نہ کرائی یعنی نماز میں بتلایا کیوں نہیں۔‘‘[1]

اسی طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نماز پڑھائی تو آپ پر قرآءت خلط ملط ہو گئی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا:’’کیا تونے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے؟"انھوں نے عرض کیا کیوں نہیں؟آپ نے فرمایا:"پھر تمھیں کس بات نے(غلطی بتانے سے) روکے رکھا؟‘‘[2]

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھتے ہوئے اگر امام بھول جائے تو اسے لقمہ دیاجاسکتا ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم عہد و رسالت میں اپنے امام کو لقمہ دیا کرتے تھے اور اسے حرج خیال نہیں کیا جاتا تھا۔[3]اس سلسلہ میں ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا تھا کہ نماز میں امام کو لقمہ دیا کرو۔[4]لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، اسے دوران نماز لقمہ نہ دینے کے بارے میں بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔(واللہ اعلم)


[1] ۔بیہقی ،ص:211،ج3۔

[2] ۔ابو داؤد،الصلوٰۃ:907۔

[3] ۔مستدرک حاکم ،ص:276۔ج1۔

[4] ۔ابو داؤد،الصلوٰۃ:908۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:79

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ