سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(512) سود کی تعریف اور اقسام

  • 1970
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-04
  • مشاہدات : 6126

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(1) سود کی تعریف اور اقسام؟ (2) سو  نقد1/1/2 سو ادھار کی حیثیت کیا ہے ؟ (3) قسطوں پر لی چیز کی حیثیت کیا جائز ہے یا نہیں ؟ (4) سرکاری ملازمین کو جو تنخواہ ملتی ہے وہ بنکوں کے ذریعے ملتی ہے اور بنک میں اکائونٹ کے بغیر نہیں رقم ملتی آیا وہ جائز ہے  یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(1) سود وربا کی تعریف تو مجھے کتاب وسنت میں کہیں نہیں ملی البتہ اس کے ناجائز اور حرام ہونے پر دلالت کرنے والی نصوص کتاب وسنت میں بکثرت موجود ہیں ۔ ہاں اس کی اقسام کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا فرمان «ثَلاَ ثَهٌ وَّسَبَعُوْنَ بَابًا»سنن ابن ماجه ابواب التجارات-باب التغليظ في الربو ’’سود کے تہتر (۷۳) درجے ہیں ان کا معمولی یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے نکاح کرے اور سب سے بڑا سود مسلمان کی عزت تباہ کرنا ہے‘‘

(2) ایک چیز کی بیع نقد سو میں اور ادھار سوا سو میں ہو تو نقد سو درست اور ادھار سوا  سو سود ہے ابوداود میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

«مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِیْ بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْ کَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا»سنن ابى داؤد كتاب البيوع-باب فى من باع بيعتين فى بيعة

’’جو شخص ایک بیع میں دو سودے کرے تو اس کے لیے کم تر قیمت والا سودا ہے یا سود ہے‘‘

(3) قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی قیمت جو قسطوں میں ادا کرنی ہے نقد والی ہے تو درست اور جائز ۔ اور اگر قسطوں میں ادا کی جانے والی قیمت نقد قیمت سے زائد ہو تو سود وحرام ہے دلیل پہلے لکھ چکا ہوں ابوداود والی حدیث:

«مَن بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِیْ بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْ کَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا»’جو ایک بیع میں دو بیع کرتا ہے پس اس کے لیے دونوں سے کم ہے یا پھر سود ہے‘‘

(4) سرکاری یا غیر سرکاری ملازمین جس کام پر ملازمت کر رہے ہیں اگر وہ کام شرعاً درست اور جائز ہے تو ان کی ملازمت  وتنخواہ بھی جائز اور درست ہے اور اگر وہ کام شرعا درست اور جائز نہیں تو ان کی ملازمت وتنخواہ بھی جائز اور درست نہیں۔

رہا سودی بنکوں میں اکائونٹ تو وہ جائز نہیں خواہ سیونگ ہو خواہ کرنٹ ۔ سیونگ کا ناجائز ہونا تو واضح ہے کہ وہ سودلینے دینے پر مشتمل ہے اور سود لینا دینا حرام ہے اور کرنٹ اس لیے ناجائز ہے کہ اس میں رقم جمع کرانے والا سودی کاروبار میں زبردست تعاون کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ﴾--مائدة2

’’اور مددگاری کرو اوپر بھلائی کے اور پرہیزگاری کے اور مت مددگاری کرو اوپر گناہ کے اور ظلم کے‘‘ کرنٹ والے کی رقم بنک والے دوسروں کو دے کر ان سے سود وصول کریں گے لہٰذا یہ کرنٹ والا ان کا معاون ٹھہرا جبکہ گناہ کے کاموں میں تعاون کرنے سے اللہ تعالیٰ منع فرما رہے ہیں۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

خرید و فروخت کے مسائل ج1ص 353

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ