سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(40) پھٹی جراب پر مسح کرنا

  • 19689
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-28
  • مشاہدات : 333

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سردی کے موسم میں مجھے پاؤں دھونے سے ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے اس لیے میں وضو کر کے جرابیں پہن لیتی ہوں پھر سارا دن ان پر مسح کرتی رہتی ہوں، مجھے کسی نے کہا ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں کیونکہ جرابوں پر اس وقت مسح کیا جاسکتا ہے جب ان سے پانی اندر نہ جائے، یعنی موزے کی طرح ہوں، اس لیے موجودہ قسم کی جرابوں پر مسح جائز نہیں اس کے متعلق وضاحت کریں نیز بتائیں کہ جرابیں کس قدر پھٹی ہوں تو ان پر مسح ناجائز ہوتا ہے برائے مہربانی ان سوالوں کا جواب جلدی دیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہمیں وضو اور تیمم کے بیان کے بعد فرمایا ہے۔

﴿ما يُريدُ اللَّهُ لِيَجعَلَ عَلَيكُم مِن حَرَجٍ وَلـٰكِن يُريدُ لِيُطَهِّرَكُم وَلِيُتِمَّ نِعمَتَهُ ...﴿٦﴾... سورةالمائدة

’’اللہ تعالیٰ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا ہےکہ تمھیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مجبوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ہمیں آسانیاں عطا کرتا ہے مثلاًجس مریض کو پانی کے استعمال سے تکلیف کا یا تکلیف کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو وہ وضو یاغسل کی ضرورت کے وقت تیمم کر سکتا ہے۔یا ایسا مسافر جسے وضو یا غسل کے لیے پانی نہ مل رہا ہو اس کے لیے بھی یہی رعایت ہے،اس طرح سردی کے موسم میں اگر کسی کو پاؤں دھونےمیں تکلیف ہے تو موزوں یا جرابوں پر مسح کرسکتا ہے،جرابوں پر مسح کرنے کی سہولت کئی ایک احادیث سے مروی ہے، لغوی اعتبارسے جراب،چمڑے ،اون  اور سوت کی بھی ہوتی ہے یعنی ہر وہ چیز جسے پاؤں کو سردی اور گردوغبار سے حفاظت کے لیے پہنا جائے خواہ وہ چمڑے یا اون یا سوت سے بنی ہواسے جراب کہتے ہیں اور اس پر مسح کیا جا سکتا ہے۔ ان کے لیے درج ذیل شرائط کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے۔

1۔وہ اتنی موٹی اور مضبوط ہوں کہ انہیں پہن کر اگر تین چار میل چلاجائےتو وہ نہ پھٹیں۔

2۔اس پر پانی کے قطرے ڈالے جائیں تو ان سے پاؤں گیلانہ ہو۔

3۔وہ گھسی پھٹی اور پرانی نہ ہوں۔اس قسم کی غیر معقول شرائط کتاب وسنت میں موجود نہیں ہیں ، خواہ مخواہ تکلفات میں پڑنا بنی اسرائیل کا شیوہ ہے ہمیں ان سے احتراز کرنا چاہیے اب اس سلسلہ میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔

1۔حضرت مغیرہ بن شعبہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وضو فرمایا ۔تو اپنی جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔[1]

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔’’جوتیوں پر مسح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی جوتیوں کے تسموں پر مسح کیا جو پاؤں کے ظاہری حصے پر ہوتے ہیں،اس کے نچلے اور پچھلے حصے پر مسح کرنا سلف سے ثابت نہیں۔‘‘[2]

2۔حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وضو کیا تو اپنی جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا۔[3]

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے عملی طور پر مسح کرنے کے متعلق روایات ہیں بلکہ آپ کا امر بھی ثابت ہے جیسا کہ درج ذیل روایت سےمعلوم ہوتا ہے۔

حضرت ثوبان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک مرتبہ کسی مہم کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا،دوران سفرانہیں سردی لگی تو واپس آکر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس امرکی شکایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں عماموں اور تساخین پر مسح کرنے کا حکم دیا۔[4]تساخین کے متعلق امام ابن ارسلان فرماتے ہیں:"جو چیزوں کو گرمی پہنچائےخواہ وہ چمڑے کے موزے یا جرابیں ہوں انہیں تساخین کہا جاتا ہے۔[5] 

اس حدیث سے معاملہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ہر وہ چیز جس سے پاؤں کو سردی سے بچایاجا سکتا ہے اس پر مسح کرنا جائز ہے۔ امام ابن قدامہ  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں۔"چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے جرابوں پر مسح کیا اور دور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کسی سے ان کی مخالفت منقول نہیں لہٰذا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔[6]آخر میں ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا عمل پیش کرتے ہیں جو اس مسئلہ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

ازرق بن قیس رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کودیکھا وہ ایک دفعہ بے وضو ہوئے تو انھوں نے وضو کے لیے اپنا منہ اور ہاتھ دھوئے اور اون کی جرابوں پر مسح کیا، اس نے عرض کیا آپ ان پر مسح کرتے ہیں؟انھوں نے جواب دیا۔اس میں تعجب کی کونسی بات ہے یہ بھی موزے ہیں لیکن چمڑے کے بجائے اون کے ہیں۔[7]

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جراب پر مسح کرنے کے لیے کسی قسم کے قیاس کا سہارا نہیں لیا بلکہ انھوں نے فرمایا ہے کہ لفظ جو ربین لغوی معنی کے اعتبارسے خفین کے مدلول میں داخل ہے اور خفین پر مسح کرنے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے لہٰذا جرابوں پر مسح کرنے میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔مسند امام احمد،ص:252۔ج3۔

[2] ۔مغنی ص:182۔ج1۔

[3] ۔ابن ماجہ الطہارۃ:560

[4] ۔مسند امام احمد،ص:277۔ج1۔

[5] ۔عون المعبود،ص:56،ج1۔

[6] ۔مغنی ص:151،ج1۔

[7] ۔الکنی والا سماءللدولابی، ص:181۔ج1۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:65

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ