سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(33) خون نفاس کی مدت

  • 19682
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 1384

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خون نفاس کی مدت کتنی ہے اور اگر وقفے وقفے سے خون آئے تو شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زچگی کے بعد جو خون آتا ہے اسے نفاس کہا جا تا ہے، اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت ہے کہ عہد رسالت میں نفاس والی عورتیں چالیس دن عدت گزارتی تھیں۔[1]

اگر اس سے پہلے طہارت ہو جائےیعنی خون رک جائے تو زچہ کو چاہیے کہ وہ غسل کر کے نماز اور روزہ شروع کردے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نفاس والی خواتین کے لیے چالیس کی مدت مقرر کی اگر وہ اس سے قبل طہارت حاصل کر لیں تو الگ بات ہے۔[2]

اس سند کے متعلق محدثین نے کچھ کلام کیا ہےتاہم حافظ بوصیری نے زوائد ابن ماجہ میں اسے صحیح قراردیا ہے۔[3]اگر نفاس والی عورت چالیس دنوں سے پہلے پاک ہو جائے لیکن کچھ دنوں بعد چالیس دنوں کے اندر اسے دوبارہ خون شروع ہو جائے تو اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ چالیس دنوں کے اندرتو اسے نفاس ہی سمجھا جائے گااور اگر چالیس دنوں کے بعد خون جاری ہوتا ہے تو وہ استحاضہ کے حکم میں ہے۔اگر کسی عورت کو چالیس دن کے بعد تک خون آتا ہے تو اس میں کچھ تفصیل ہے اگر عورت کی عادت پہلے سے ہی چالیس دن سے زائد کی ہے تو وہ اپنی عادت کے مطابق عمل کرے اور اگر پہلے سے اس کی عادت نہیں بلکہ ہنگامی طور پر ایسا ہوا ہے ہمارا رجحان یہ ہے کہ وہ چالیس دن پورے کرنے کے بعد غسل کرکے نماز اور روزہ شروع کردے۔ کیونکہ وہ اس صورت میں مستحاضہ کے حکم میں ہے۔اس قسم کا خون عبادات کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ کچھ عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ انھیں وضع حمل کے بعد خون آتا ہی نہیں۔ ایسی عورت کو انتظار کی ضرورت نہیں۔وہ زچگی کے بعد غسل کر کے نماز وروزہ شروع کردے اگر چہ ایسی عورتیں بہت کم ہوتی ہیں بہر حال انہیں چالیس دن تک انتظار کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔مسند امام احمد ص:304۔ج6۔

[2] ۔بیہقی،ص:343،ج1۔

[3] ۔ابن ماجہ الطہارۃ:649۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:60

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ