سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(25) جرابوں یا موزوں پر مسح کرنا؟

  • 19674
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-28
  • مشاہدات : 155

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جرابوں یا موزوں پر مسح کب کیا جا سکتا ہے، اس کا کیا طریقہ ہے، نیز مسح کرنے کی اجازت کس حد تک ہے؟تفصیل سے راہنمائی کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جرابوں یا موزوں پر مسح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں باوضو ہو کر پہناجائے پھر جب وضو ٹوٹے گا تو تازہ وضو سے اس کی مدت شروع ہوگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت مغیرہ بن شعبہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:

’’ان موزوں کو چھوڑدو کیونکہ جب یہ موزے پہنے تھے تو میں وضوسے تھا۔‘‘[1]

جرابوں اور موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنا چاہیے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر دین کا دارو مدار رائے اور عقل پر ہوتا تو پھر موزوں کی نچلی سطح پر مسح کرنا زیادہ قرین قیاس تھا ۔نہ کہ اوپر والی سطح پر جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو  موزوں کے بالائی حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔[2]

مسح کی کیفیت کے متعلق کوئی صحیح حدیث ہماری نظر سے نہیں گزری لہٰذا اتنے حصہ کا مسح کرنا جسے لغت اور عرف میں مسح کہا جا سکتا ہے کفایت کر جائےگا۔ انگلیوں کو ترکر کے اوپر کی جانب خط کھینچ لیا جائے۔اس کی مدت مقیم کے لیے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے کہ:’’مسافر کے لیے تین رات اور تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات مسح کی مدت ہے۔‘‘[3]اس دوران اگر جنابت یا احتلام ہو جائے تو انہیں اتارنا ضروری ہے۔(یعنی پاؤں پر مسح کے بجائے ان کو دھویا جائےگا۔)[4]


[1] ۔صحیح بخاری،الوضوء۔206۔

[2] ۔بیہقی ،ص292۔ج1۔

[3] ۔صحیح مسلم الطہارۃ:676۔

[4] ۔مسند امام احمد،ص:239۔ج4۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:3، صفحہ نمبر:56

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ