سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(775) والدہ کا کسی بچے کو کوئی جگہ صدقہ کرنا

  • 19623
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-26
  • مشاہدات : 684

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی عورت کے بچے ہیں جو سگے نہیں،اس نے کسی بچے کو خاص کرتے ہوئے اس کے باقی بھائیوں کے بغیر اپنی ملکیت کے حصے میں سے کچھ کا اس پر صدقہ کردیا،پھر وہ عورت فوت ہوگئی اور وہ اسی صدقہ کیے ہوئے مکان میں تھی تو کیا صدقہ درست ہوگا یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چار اماموں کے مشہور مذہب کے مطابق اگر اس لڑکے نے اسے قبضے میں نہیں کیا حتیٰ کہ وہ فوت ہوگئی تو یہ ہبہ باطل ہوگا اور اگر اس عورت نے وہ حصہ اس لڑکے کے قبضے میں دےدیا تو صحیح بات کے مطابق اس ہبہ کے ساتھ کسی کو خاص کرنا ناجائز ہے بلکہ وہ اس کے اور اس کے بھائیوں کے درمیان برابر برابر ہوگا۔واللہ اعلم۔(شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 694

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ