سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(748) اسقاط حمل کی تدابیر اختیار کرنے کا حکم

  • 19596
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-26
  • مشاہدات : 277

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسقاط حمل کی تدابیر اختیار کرنے کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حمل گرانے والی چیز کے استعمال کی دو صورتیں ہیں:

1۔پہلی صورت کہ اسے گرانے کا مقصد اسے ضائع کرنا ہوتو یہ اگر روح پھونکے  جانے کے بعد ہے تو بلاشبہ حرام ہے۔ کیونکہ یہ ناحق ایسی محترم جان کو قتل کرناہے جسے اللہ نے  حرام کیا ہے،اور ایسی نفس محرمہ کو قتل کرنا کتاب وسنت اور مسلمان کے اجماع کی وجہ سے حرام ہے۔

اور اگر روح پھونکے  جانے سے پہلے ہوتو اس کے جائز ہونے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے،کچھ نے جائز قرار دیا ہے اور کچھ نے ناجائز،اور کچھ نے کہا ہے کہ لوتھڑا ہونے تک جائز ہے،یعنی اس پر چالیس دن بیت جائیں،اور بعض نے خلقت انسانی ظاہر ہونے سے قبل تک جائز کہاہے۔زیادہ احتیاط والا  پہلو یہی ہے کہ اسے کسی ضرورت کے بغیر گرانا جائز نہیں،مثلاً:والدہ بیمارہو اورحمل کو برداشت نہ کرسکتی ہو تو تب اس شرط سے گرانا جائز ہوگا کہ اگر اس پر انسانی خلقت ظاہر ہونے کا وقت نہ آیا ہو،اگر اس کیفیت کو پہنچ جائے تو ناجائز ہوگا۔

2۔دوسری صورت کہ اسے گرانے سے ضائع کرنا مقصود نہ ہو بلکہ مدت حمل پوری ہونے اور ولادت کے قریب ہونے کے وقت اس کے اسقاط واخراج کی ایک کوشش ہوتو یہ اس شرط سے جائز ہوگا کہ والدہ اور بچے کو کوئی نقصان نہ ہو اور نہ ہی معاملہ آپریشن کا محتاج ہو،اگر آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کی چار حالتیں ہیں:

پہلی حالت:

والدہ اور بچہ زندہ ہوتو بلاضرورت آ پریشن ناجائز ہوگا،مثلاً:اس کی ولادت مشکل ہو جس کی بنا پر آپریشن کی نوبت پیش آئے،اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم بندے کے پاس امانت ہے،اس میں کوئی ایسا تصرف جائز نہیں جس سے جان کو خطرہ ہومگر کسی بڑی مصلحت کے باعث اور اس لیے بھی کہ بسا اوقات انسان گمان کرتا ہے کہ آپریشن میں نقصان نہیں ہے جبکہ نقصان ہوجاتاہے۔

دوسری حالت:

ماں اور حمل مردہ ہوں تو اسے نکالنے کا فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اخراج کے لیے آپریشن کرنا جائز نہیں ہے۔

تیسری حالت:

والدہ زندہ اور حمل مردہ ہوتو اسکے اخراج کے لیے آپریشن جائز ہوگا مگر یہ کہ والدہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،کیونکہ ظاہر یہی ہے  ،ویسے اللہ بہتر جانتا ہے کہ جب حمل مردہ ہوجائے گا تو بغیر آپریشن کے اسے نکالا نہیں جاسکتا،اور اس کے رہنے سے آئندہ حمل بھی نہیں ہوگا اور گراں بھی بن جائے گا ،اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر وہ سابقہ خاوند سے عدت گزار رہی ہوتو وہ بیوہ ہی رہے گا یعنی شادی نہ کرسکے گی۔

چوتھی حالت:۔

ماں مردہ اور حمل زندہ ہوتو اگر اس کی زندگی کی امید نہ ہوتو آپریشن کا استعمال ناجائز ہوگا،اور اگر اس کی زندگی کی امید ہو اور اس کا کچھ حصہ بھی نکل آیا ہے تو والدہ کے پیٹ کو پھاڑ کر باقی کو بھی نکالا جائے گا،اور اگر اس سے کچھ بھی نہیں نکلا تو ہمارے اصحاب(حنابلہ) کہتے ہیں کہ حمل نکالنے کے لیے والدہ کے پیٹ کو پھاڑا نہیں جائے  گا کیونکہ یہ مثلہ ہے لیکن درست بات یہ ہے کہ اگر پھاڑنے کے بغیر اسے نکالا نہ جاسکتا ہوتو والدہ کو پیٹ کو پھاڑا جائے گا اور یہی ہبیرہ کا قول ہے۔جو اس نے"انصار" نامی کتاب میں کہاہے اور یہ زیادہ بہتر ہے۔

میں کہتا ہوں کہ خصوصاً ہمارے اس دور میں آپریشن کا استعمال مثلہ نہیں ہوگا کیونکہ  پیٹ کو پھاڑنے کے بعد اسے سلائی کیا جاتا ہے ،اور اس لیے بھی کہ زندہ کا احترام مردہ کے احترام سے بڑا ہے،اور اس لیے کہ معصوم(بچے) کو بربادی سے بچانا ضروری ہے اور حمل ایک معصوم انسان ہی ہوتا ہے،لہذا اُسے بچانا ضروری ہے۔واللہ اعلم

تنبیہ:۔

گذشتہ ان تمام صورتوں میں جن میں حمل کو گرانا جائز ہے ان میں اس کی اجازت بھی ہونا ضروری ہے جس کا وہ حمل ہوتا ہے،یعنی خاوند۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثمین  رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 661

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ