سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(747) ڈاکٹروں کے مشورے سے حمل کو گرانا

  • 19595
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-26
  • مشاہدات : 249

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک حاملہ خاتون کو ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کا مشورہ دیا ہے کیونکہ وہ بد صورت اور بے شکل  پیدا ہوگا تو کیا وہ ان کی رائے قبول کرلے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر اس بچے میں روح بھر دی گئی ہے تو کسی صورت میں بھی اسے گرانا جائز نہیں حتیٰ کہ اگرماں کی موت اورحمل کے مریض پیدا ہونے کا خطرہ ہو کیونکہ یہ ایک محترم جان ہے،لہذا بچہ جب چار مہینے کا ہوتا ہے اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ،اس کا رزق،موت،اس کا عمل،بدبخت ہونا یا نیک بخت ہونا لکھ دیا جاتاہے۔اور اگر یہ (مذکورہ مشورہ) روح پھونکے جانے سے پہلے ہو اور ڈاکٹروں کے بیان کے مطابق وہ ایسا معلوم اور ظاہر معاملہ ہوتو اسے  گرانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ ایسی حد تک نہیں پہنچا جس میں وہ جاندار کہلاسکے تو جب یقین ہوجائے کہ یہ بچہ ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق مسخ شدہ اور خراب شکل وصورت پر پیدا ہوگا اور اپنے آپ پر اور گھر والوں پر بوجھ ہوگا تو اس کو ختم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثمین  رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 660

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ