سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(736) نغموں کے ساتھ دف بجانا

  • 19584
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-18
  • مشاہدات : 886

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ان نغموں کا کیا حکم ہے جن میں دف بھی بجائی جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آج کل جن نغموں کو دینی نغموں کا نام دے دیا گیا ہے وہ اسلام میں کوئی دینی نغمے نہیں،ویسے اسلام میں شعر کا وجود ہے،رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے:

"ان من الشعر لحکما"[1]

"یقیناً شعر میں حکمتیں ہوتی ہیں"

لیکن ہم اشعار کی صورت میں گانے گاتے ہیں اور انھیں گانوں کا نام دے دیتے ہیں تو یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے سلف صالحین میں غیر معروف ہے ،خصوصاً جب ان کے ساتھ دف جیسے موسیقی کے آلات کا استعمال ہوتاہے۔

الغرض دینی گانوں اور نغموں کا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ ایسے اشعار ضرور ہیں جو  اپنے مفہوم میں بڑے پر لطف ہوتے ہیں،جنھیں انفرادی  صورت میں یا شادی بیاہ کے اجتماعات میں پڑھنا جائز ہے،جیسے کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کی حدیث  میں آیا ہے کہ وہ انصار کے کسی بیاہ سے آئیں تو رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   نے ان سے پوچھا:

"هلا غنيتم لهم فإن الأنصار يحبون الغناء"[2]

"کیا تم نے ان کے لیے کچھ گایا تھا؟یقیناً تو گانے کو بہت پسند کرتے ہیں۔"

انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ! ہم کیا گائیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:

کہو:

أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ

وَلَوْلا الْحَبَّةُ السَّمْرَاءُ لَمْ تَسْمَنْ عَذَارِيكُمْ

"ہم تمہارے پاس آئے ہیں،ہم تمہارے  پاس آئے ہیں،ہم تمھیں سلام کرتے ہیں تم ہمیں سلام کرو،اور اگر کلونجی نہ ہوتی تو تمہاری کنواریاں موٹی نہ ہوتیں۔"

یہ شعر تو ہے لیکن کوئی دینی شعر نہیں بلکہ یہ تو جائز گفتگو کے ساتھ دل بہلانے والا شعر ہے۔(علامہ ناصر الدین البانی  رحمۃ اللہ علیہ)


[1] ۔المستدرک(710/3)

[2] ۔صحیح ابن حبان(185/13)

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 653

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ