سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(733) باجماعت نماز کی ادائیگی سے خاوند کی سستی پر بیوی کی نصیحت اور غصے کا اظہار
  • 19581
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 932

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب عورت مسجد میں نماز کی ادائیگی میں سستی کرنے والے خاوند کو نصیحت کرتی ہے اور وہ اس پر غصے کا اظہار کرتا ہے تو کیا وہ اس کے اپنے اوپر بڑے حق کی وجہ سے گناہ گار ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر عورت کا خاوند حرام کردہ چیزکا ارتکاب کرلے تو اسے نصیحت کرنے میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا،مثلاً:نماز باجماعت ادا کرنے میں سستی کرنا یا شراب پینا یارات کو(دیر تک) بیداررہنا۔بلکہ وہ توثواب سے ہمکنار ہوگی لیکن مشروع یہ ہے کہ نصیحت نرمی اور اچھے انداز سے ہونی چاہیے کیونکہ یہ اسے قبول کرنے اور اس سے مستفید ہونے کی زیادہ نزدیک ہے۔(سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز  رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 651

محدث فتویٰ

تبصرے