سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(602) جب میاں بیوی کا عدت و رجوع میں اختلاف ہو جائے؟

  • 19450
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-25
  • مشاہدات : 745

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب عورت نے اپنی عدت مکمل کرلی تو اس کے خاوند نے کہا:میں نے اس سے پہلے تم سے رجوع کرلیا تھا مگرعورت نے اس کی تکذیب کی تو اس کا کیاحکم ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کتاب"الزاد"کے ماتن کا خیال یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس صورت کے مشابہ ہے جب عورت پہلے کہے کہ میری عدت تیرے رجوع کرنے سے پہلے مکمل ہوگئی تھی تو عورت کا قول معتبر ہوگا حتیٰ کہ مرد کوئی دلیل اور گواہی پیش کرے کہ اس نے عدت مکمل ہونے سے پہلے رجعت کرلی تھی اور یہی قول صحیح ہے،کیونکہ اس میں کوئی فرق نہیں کہ مرد پہلے دعویٰ کرے یا عورت پہلے انکار کرے۔

اور قاعدہ یہ ہے کہ دلیل وگواہی کرنامدعی کے ذمہ ہے جبکہ قسم اٹھانا مدعاعلیہ کے ذمہ ہوتا ہے خواہ ان میں سے ایک پہلے دعویٰ کرے یا دوسرا پہلے انکار کرے۔

لیکن مشہور موقف یہ ہے کہ علماء مرد اور عورت کی ابتدا میں فرق کرتے ہیں اور مرد کی ابتدا کی صورت میں اس کے قول کو قبول کرتے ہیں لیکن یہ قول سخت ضعیف ہے۔(السعدی)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 532

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ