سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(594) بيوی کے خاوند کو حق مہر سے بری کرنے کے بعد طلاق لینا

  • 19442
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-25
  • مشاہدات : 221

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت نے اپنے خاوند کو اپنے کل حق مہر سے بری کردیا پھر اس کے بعد خاوند نے اپنے متعلق یہ گواہی دی کہ بلا شبہ اس نے اپنی مذکورہ بیوی کو حق مہر سے بری کرنے کی بنیاد پر طلاق دے دی براءت طلاق سے مقدم تھی کیا طلاق صحیح ہے؟ اور اگر طلاق واقعی ہوگئی ہے تو کیا رجعی طلاق ہو گی یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر دونوں میاں بیوی نے اس پر اتفاق کیا تھا کہ بیوی اپنا حق مہر خاوند کو ہبہ کر کے اس کواس سے بری کردے گی اور خاوند اس کو طلاق دے گا پھر بیوی کوبری کردیا اور خاوند نے اس کو طلاق دے دی تو یہ طلاق بائن ہوگی اسی طرح اگر خاوند نے بیوی کو کہا مجھے بری کردو میں تمھیں طلاق دے دوں گا ۔یا یوں کہا:اگر تومجھے بری کر دے تو میں نے  تجھے طلاق دے دی یا اس قسم کی دیگر عام اور خاص عبارات بولیں جن سے یہ مفہوم ہوتا ہو کہ خاوند نے بیوی سے اس شرط پر براءت طلب کی کہ وہ اس کو طلاق دے دے گا لیکن اگربیوی نے خاوند کو اس طرح بری کیا کہ اس براءت کے طلاق سے کوئی تعلق نہیں تھا پھر اگر خاوند نے اس کے بعد اس کو طلاق دی تو یہ ایک رجعی طلاق ہو گی۔

لیکن وہ براءت میں رجوع کر سکتی ہے اگر ممکن ہو وہ اس طرح کہ براءت اس طرح کی ہو جو عادتاً عورتوں سے صادر نہیں ہو تی سوائے اس کے کہ مرد اس کو اس کی رضا کے خلاف اپنے پاس روک کر رکھے یا اس ڈر کی وجہ سے کہ وہ اس کو طلاق دے دے گایا اس پر ایک اور عورت سے شادی کرلے گا یا اس طرح کی کوئی اور وجہ ہو جس سے عورت مجبور ہو کر براءت کا علان کرے۔

لیکن اگر اس نے خوش دلی کے ساتھ مطلق طور پر براءت کا اعلان کیا ہو اور اس طرح کہ براءت کی ابتداء عورت کی طرف سے ہو۔ مرد کی طرف سے کسی سبب اور عوض کے بدلے میں نہ ہو تو اس سے عورت رجوع نہیں کر سکتی ۔(ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 527

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ