السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس عورت کی طلاق کا کیا حکم ہے جس کو اس کے خاوند نے کہا:اگر تو اس رات میرے گھر نہیں لوٹے گی تو تجھے تین طلاقیں ہوں،اور مرد کا دعویٰ یہ ہے کہ عورت نے گھر لوٹنے کا ارادہ کیا تھا مگر اس کے بھائی نے اس کو لوٹنے سے منع کردیا تھا؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس مسئلے کا جواب اور وہ ہے طلاق کی قسم کھانے کا مسئلہ،بلاشبہ جب وہ اس میں حانث ہوکیا تو اس کی بیوی پر طلاق پڑ جائے گی،اورجمہور کا یہی موقف ہے۔
رہا دعویٰ اکراہ تو اس میں مناسب یہ ہے کہ تحقیق کرلی جائے،اگر عورت کا میکے میں رہنے اور اپنے خاوند کے گھر نہ لوٹنے پر مجبور کیا جانا ثابت ہوجائے تو اس پر طلاق نہیں پڑے گی اور اگر اکراہ ثابت نہ ہوتو اصل اس کا عدم ہے۔(محمد بن ابراہیم)
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب