سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(478) سچی توبہ

  • 1936
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-03
  • مشاہدات : 882

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک طالب علم کا سوال ہے کہ اس نے دو برے کاموں سے توبہ کی تھی (جن میں مشت زنی ایک تھی اور دوسرا کام لڑکے کے ساتھ کپڑوں سمیت برے کام) اس نے قسم اٹھائی کہ آئندہ یہ کام نہیں کروں گا۔ اب غلطی سے اس سے یہ کام ہوگئے ہیں ۔ کیا یہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں ؟ اگر معاف ہو سکتے ہیں تو ان کا کفارہ کیا ہے ؟ اس کے بعد آدمی کو کیاکرنا چاہیے ؟ جواب جلدی دیں آدمی بہت پریشان ہے بہت بہت مہربانی ہو گی ۔ جس لڑکے کی وجہ سے وہ برا کام کرتا ہے اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ اس کی وجہ سے وہ برے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اس کا دوست ہے کیا اس سے دوستی صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(1)قرآن مجید میں ہے :

﴿إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ﴾--النساء17

’’صرف انہی لوگوں کی توبہ خدا کے ہاں  مقبول ہے جو غلطی سے برے کام کرتے ہیں‘‘ تو اس نمبر میں جہالت کی تشریح مقصود تھی مطلب یہ ہے کہ آدمی گناہ کرنا نہیں چاہتا مگر غضب یا شہوت کا ایسا غلبہ ہوا کہ اس نے گناہ کر لیا۔

(2) مثلاً توبہ اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اس پر اعتماد کرنا شروع کر دیں مگر اس کے دل میں یہ ہے کہ ان کو اعتماد میں لے کر ان کا کوئی مالی یا جانی یا آبروریزی والا نقصان کروں گا فاسد غرض میں شامل ہے۔

(3) مثلاً کسی کامال یا کوئی چیز اس نے ہتھیا رکھی ہے تو وہ اسے واپس کرے یا اس سے معاف کروا لے اور ساتھ ساتھ اس سے معافی بھی مانگے۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 329

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ