سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(505) گرجے میں پادری کے ہاتھ پر مسلمان کی کتابیہ سے شادی کی تشہیر کا حکم
  • 19353
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 811

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مؤمن کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ گرجے میں پادری کے ذریعے کتابیہ عورت سے شادی کروائے جبکہ وہ اس سے پہلے انگریزی میرج دفاتر میں اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کی سنت کے مطابق شادی کراچکا ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مومن کو یہ جائز نہیں کہ وہ گرجے میں پادری کے ذریعے شادی کروائے اگرچہ یہ شادی اللہ اور اس کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے طریقے کے مطابق شادی کروانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس طرح نصاری کے شادی کے طریقے کی مشابہت ہوتی ہے اور ان کے دینی شعائر اور معاہد کی تعظیم ہوتی ہے اور ان کے علماء و عبادکا احترام و توقیر ہوتی ہے کیونکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   کا فرمان ہے۔

"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ"[1]

"جس نے کسی قوم کی مشابہت کی پس وہ انھی میں سے ہے۔"اس کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ   نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے(سعودی فتوی کمیٹی)


[1]۔صحیح مسند احمد (50/2)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 447

محدث فتویٰ

تبصرے