سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(471) اس مطلقہ عورت کا حکم جو بغیر عدت گزارے دوسرا عقد کر لے؟

  • 19319
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 725

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی جب وہ اس کے بچے کو دودھ پلا رہی تھی پھر وہ عورت آٹھ مہینے مطلقہ رہی پھر اس نے ایک اور آدمی سے شادی کر لی ۔اس کے پاس وہ مہینہ بھر رہی تو اس نے بھی اس عورت کو طلاق دے دی پھر یہ تین مہینے مطلقہ رہی اور اتنے عرصے میں اس کو حیض نہیں آیا نہ پہلے آٹھ مہینوں میں نہ دوسرے خاوند کے پاس رہنے کی مدت میں اور نہ ہی آخری تین مہینوں میں پھر اس عورت کے بچے کے باپ اور اس عورت کو طلاق دینے والے نے اس سے شادی کر لی۔ کیا یہ دونوں عقد درست ہیں یا ان میں سے ایک درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہ پہلا عقد درست ہے اورنہ دوسرا بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے شوہر کی عدت پوری کرے پھر دوسرے خاوند کی عدت گزارے اور پھر دونوں عدتوں کے ختم ہونے کے بعد وہ جس سے چاہے شادی کرلے۔(واللہ اعلم (ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 409

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ