سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(455) لڑکی کے ایسے مرد سے شادی کرنے سے انکار کاحکم جس کے دین واخلاق کو تو وہ پسند کرتی ہے مگر اس کے گھر والوں کو پسند نہیں کرتی
  • 19303
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 996

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب لڑکی ایسے آدمی سے شادی کرنا چاہے جس کے متعلق اس نے اپنے گھر والوں سے سنا ہے کہ وہ دین دار اور اخلاق حسنہ کا مالک ہے لیکن وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی اس کو ناپسند کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے گھر والوں کی وجہ سے جن کو اس نے دیکھاہے کہ وہ لوگوں کی غیبتیں اور چغلیاں کرتے ہیں تو کیا اس لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے سے انکار کا حق حاصل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب اس لڑکی کے گھر والے اس آدمی کی دین داری اور امانت داری کو جانتے ہیں اور انھوں نے اس کو اس لڑکی کے لیے بطور خاوند کے منتخب کرلیاہے تو لڑکی کو چاہیے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔

رہی اس آدمی کے گھر والوں کی یہ حالت کہ وہ لوگوں کی غیبتیں کرتے ہیں پس یہ ایک ایسی حرکت ہے جس کا تعلق اس کے گھر والوں سے ہے اور ان پر یہ حرام ہے لیکن یہ لڑکی اس کے گھر والوں کی اس حالت کی وجہ سے ایک ہمسر اور صالح آدمی سے شادی ترک نہ کرے جبکہ اس کے گھر والوں کی اس خرابی کی اصلاح بھی ممکن ہے وہ اس طرح کہ یہ لڑکی ان کو وعظ ونصیحت کرے اور ان کو اللہ عزوجل کا خوف دلائے یا وہ ان کی اس مجلس سے الگ رہے جس میں وہ غیبت اور چغلی کرتے ہیں اور کسی اور جگہ بیٹھ جائے اس پر یہ ہرگز لازم نہیں ہے کہ وہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بیٹھے جبکہ وہ لوگوں کی غیبت کررہے ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کو بنیاد بنا کر ہمسر آدمی کے ساتھ شادی کا موقع ضائع کرے جس کو اس کے گھر والوں نے اس کے لیے منتخب کیاہے،کیونکہ عورت کے لیے ممنوعہ معاملے کاتدارک ممکن ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے۔اسے اپنی مصلحت مد نظر رکھنی چاہیے اور اس نیک ہمسر آدمی سے شادی کرلینی چاہیے۔(الفوزان)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 393

محدث فتویٰ

تبصرے