سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(424) شادی کے موقع پر تین میٹر لمبا مخصوص جوڑا پہننا

  • 19272
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 685

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شادی کے موقع پر پہنا جانے والا مخصوص جوڑا"فسنان" اس کے متعلق آپ کی کیا ر ائے ہے؟جو تقریباً تین میٹر لمبا ہوتاہے اور دلہن اس کو اپنے پیچھے گھسیٹتی ہے نیز شب زفاف میں گلوکاراؤں پر اٹھنے والے مصارف کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے جو عورت کے متعلق ہے تو اس میں سنت یہ ہے کہ عورت اپنا کپڑا ایک بالشت(مرد کے کپڑے  سے) نیچے کرلے اور ایک ذراع سے زیادہ نہ کرے  تاکہ پردہ بھی ہوجائے اور قدم بھی ننگے نہ ہوں۔لیکن ایک ذراع سے زیادہ کرنا وہ دلہن اور غیر دلہن دونوں کے لیے غلط ہے۔جائز نہیں ہے کیونکہ وہ بھاری قیمتوں والے ملبوسات میں ناحق مال کا ضیاع ہے۔لہذاملبوسات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے،ان میں ایسی چیزیں جڑنے کی ضرورت نہیں ہے جن پر بہت زیادہ خرچ اٹھتاہے جو امت کو اس کے دین اور دنیا کے امور میں کام آسکتا ہے۔

رہا اچھی آواز سے گانے والیوں کا معاملہ تو بہت سا مال خرچ کرکے ان کو لانا جائز نہیں ہے۔رہی وہ گانے والی جو رات کے وقت خوشی کے اظہار کے لیے جو بہت سادے اور معمولی انداز میں گیت گاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔شادی کے موقع پر گیت گانا  اور دف بجانا جائز ہے۔بلکہ اگر اس سے کوئی شر پیدا نہ ہوتو یہ مستحب ہے۔لیکن یہ رات کے وقت صرف عورتوں کے اندر ہو اور رت جگنے اور بلند آواز کے بغیر ختم ہوجائے،بلکہ معمول کے وہ  گیت جس میں شادی ،خاوند اور دلہن کی برحق تعریف ہوتی ہے اور جو اس طرح کے کلمات پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں کسی قسم کا شر نہ ہو اور وہ صرف عورتوں میں ہوں،ان کے ساتھ مرد شریک نہ ہوں اور بغیر لاؤڈ اسپیکر کے ہوں تو اس  میں کوئی حرج نہیں ہے۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین    کے دور میں معمول تھا۔رہا  گویوں کو بہت  سا مال خرچ کرکے بطور فخر کے لانا،یہ جائز نہیں غلط ہے ،اسی طرح لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیونکہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور رات کو دیر تک جاگتے رہنے سے فجر کی نماز ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے،یہ  غلط ہے اس کو ترک کرنا واجب ہے۔(ابن باز  رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 363

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ