سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(383) کیا سعی والی جگہ مسجد حرام کا حصہ ہے؟

  • 19231
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-20
  • مشاہدات : 252

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا سعی والی جگہ مسجدحرام کا حصہ ہے؟کیا حائضہ اس میں جا سکتی ہے؟ کیا اس شخص پر جوسعی والی جگہ کی طرف سے مسجد حرام میں داخل ہو تحیۃ المسجد پڑھنا واجب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ظاہر تو یہی ہے کہ سعی والی جگہ مسجد کا حصہ نہیں ہے اسی لیے انھوں نے ان دونوں کے درمیان چھوٹی سی دیوار بنا کر فاصلہ کر دیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگوں کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اگر اس کو مسجد میں داخل اور شامل کر دیا جائے تو اس عورت پر طواف اور سعی کے درمیان حائضہ ہو جائے سعی کرنا منع ہو جائے اور میں تو یہی فتوی دیتا ہوں کہ جب عورت طواف کے بعد اور سعی سے پہلے حائضہ ہو جائے تو وہ سعی کرے کیونکہ سعی والی جگہ مسجد میں شمار نہیں کیا جاتی۔

لیکن تحیۃ المسجد تو کہا جا تا ہے کہ جب انسان طواف کے بعد سعی کر لے پھر وہ مسجد کی طرف  آئے تو وہ اس میں نماز پڑھے اور اگر اس نے تحیۃ المسجد چھوڑے تو اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

اور افضل یہ ہے کہ وہ فرصت دیکھ کر دورکعتیں ادا کر لے کیونکہ یہاں پر ادا کی گئی نماز فضیلت والی نماز ہے (فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ  )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 330

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ