سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(465) دوسری دفعہ جماع کا ارادہ ہو تو وضوء کرنا..!

  • 1923
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-02
  • مشاہدات : 2493

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ جماع کرنے کے بعد اگر دوسری بار بیوی کے پاس جانے کا ارادہ ہو تو وضوء کرنا چاہیے ؟ لیکن وضوء کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نجاست کو دور کیا جائے یا غسل جنابت کیا جائے جب تک غسل جنابت نہیں کریں گے اس وقت تک وضوء نہیں ہو گا۔ یہ تو پھر بہت مسئلہ بن جاتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ جماع کرنے کے بعد اگر دوسری بار بیوی کے پاس جانے کا ارادہ ہو تو وضوء کرنا چاہیے ؟ لیکن وضوء کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نجاست کو دور کیا جائے یا غسل جنابت کیا جائے جب تک غسل جنابت نہیں کریں گے اس وقت تک وضوء نہیں ہو گا۔ یہ تو پھر بہت مسئلہ بن جاتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ لکھتے ہیں ’’وضوء کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نجاست کو دور کیا جائے یا غسل جنابت کیا جائے ‘‘ تو محترم گذارش ہے کہ دوبارہ بیوی کے پاس جانے کے لیے وضوء یا جماع کے بعد کھانے پینے یا سونے کے لیے وضوء کی خاطر آپ کی ذکر کردہ چیزیں ضروری نہیں لہٰذا اشکال ختم اگر دوبارہ بیوی کے پاس جانے وضوء اور اور جماع کے بعد سونے یا کھانے پینے کی خاطر وضوء میں نجاست کا دور کرنا یا غسل جنابت ضروری ہونے کی کوئی آیت یا صحیح حدیث آپ کے علم میں ہو تو مجھے مطلع فرمائیں آپ کا انتہائی شکرگزار ہوں گا ۔ ان شاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 324

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ