سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(462) مانع حمل دوائی کا استعمال یا اسقاط حمل

  • 1920
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-02
  • مشاہدات : 1154

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی کے چھ بچے ہیں اب تقریباً دو سال سے یہ صورت حال ہے کہ حمل کے دو ماہ بعد درد زہ کی طرح کوئی تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور بعض اوقات شدت اختیار کر جاتی ہے اب مانع حمل دوائی کا استعمال یا اسقاط کی اجازت ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کے چھ بچے ہیں اب تقریباً دو سال سے یہ صورت حال ہے کہ حمل کے دو ماہ بعد درد زہ کی طرح کوئی تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور بعض اوقات شدت اختیار کر جاتی ہے اب مانع حمل دوائی کا استعمال یا اسقاط کی اجازت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں عزل کی صورت اختیار کی جا سکتی ہے عزل شرعاً درست ہے چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

 «کُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ یَنْزِلُ»مسلم-كتاب النكاح-باب حكم العزل

’’ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اترتا تھا ‘‘

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 323

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ