سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(456) آپﷺنے اپنی بیٹیوں کو جہیز دیا..؟

  • 1914
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-01
  • مشاہدات : 656

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
راقم الحروف کو حکیم عبدالعزیز بانی تحریک صراط مستقیم (لاہور) کا لٹریچر ملا پڑھ کر پتہ چلا کہ جہیز ایک بہت بڑی لعنت ہے اور لینے دینے والا لعنتی ہونے کے ساتھ ساتھ ابدی جہنمی ہے ہو سکتا ہے کہ آپ کی نظروں سے مذکورہ لٹریچر گزرا ہو بہرحال حکیم صاحب سورۃ النساء کی آیات ۱۱ تا۱۴ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں احکام وراثت اللہ کی حدود ہیں اور جہیز لینے دینے والا احکام وراثت سے پہلوتہی کرتا ہے اور جہیز کو ہی اس کا بدل ٹھہراتا ہے اس لیے ابدی جہنمی ہے نیز اس وقت معاشرہ میں جتنی بھی برائیاں ہیں جہیز ان کا اصل سبب ہے اور یہ ہندوانہ رسم ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ جماعت حقہ اہل حدیث کے بڑے بڑے علماء شیوخ الحدیث مفتی صاحبان بھی جہیز دینے میں پیش پیش ہیں تو سوچتا ہوں کہ حکیم عبدالعزیز صاحب کو ضرور غلطی لگی ہے جو وہ جہیز کو لعنتی عمل کہتے ہیں اور ابدی جہنمی ہونے کا سبب گردانتے ہیں کیوں کہ ایسا تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ شیوخ الحدیث اور مفتی صاحبان کی نظر سے مذکورہ آیات نہ گزری ہوں اور انہوں نے ان کو نہ سمجھا ہو ۔ کیوں کہ دوسری صورت میں معاذ اللہ وہ جان بوجھ کر اس گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ خدا کے لیے اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں ۔ اور قرآن وسنت سے واضح فرمائیں کہ جہیز واقعی غلط ہے اور دینے لینے والا اور ایسی شادی میں شرکت کرنے والا ابدی جہنمی ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
نوٹ : رسول اللہﷺنے اپنی بیٹیوں کو اپنی گرہ سے جہیز دیا ہے اگر دیا ہے تو سنت رسول اللہﷺہے اگر نہیں دیا تو سنت نہیں۔ قرآن وسنت سے ثابت فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

راقم الحروف کو حکیم عبدالعزیز بانی تحریک صراط مستقیم (لاہور) کا لٹریچر ملا پڑھ کر پتہ چلا کہ جہیز ایک بہت بڑی لعنت ہے اور لینے دینے والا لعنتی ہونے کے ساتھ ساتھ ابدی جہنمی ہے ہو سکتا ہے کہ آپ کی نظروں سے مذکورہ لٹریچر گزرا ہو بہرحال حکیم صاحب سورۃ النساء کی آیات ۱۱ تا۱۴ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں احکام وراثت اللہ کی حدود ہیں اور جہیز لینے دینے والا احکام وراثت سے پہلوتہی کرتا ہے اور جہیز کو ہی اس کا بدل ٹھہراتا ہے اس لیے ابدی جہنمی ہے نیز اس وقت معاشرہ میں جتنی بھی برائیاں ہیں جہیز ان کا اصل سبب ہے اور یہ ہندوانہ رسم ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ جماعت حقہ اہل حدیث کے بڑے بڑے علماء شیوخ الحدیث مفتی صاحبان بھی جہیز دینے میں پیش پیش ہیں تو سوچتا ہوں کہ حکیم عبدالعزیز صاحب کو ضرور غلطی لگی ہے جو وہ جہیز کو لعنتی عمل کہتے ہیں اور ابدی جہنمی ہونے کا سبب گردانتے ہیں کیوں کہ ایسا تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ شیوخ الحدیث اور مفتی صاحبان کی نظر سے مذکورہ آیات نہ گزری ہوں اور انہوں نے ان کو نہ سمجھا ہو ۔ کیوں کہ دوسری صورت میں معاذ اللہ وہ جان بوجھ کر اس گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ خدا کے لیے اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں ۔ اور قرآن وسنت سے واضح فرمائیں کہ جہیز واقعی غلط ہے اور دینے لینے والا اور ایسی شادی میں شرکت کرنے والا ابدی جہنمی ہے اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین

نوٹ : رسول اللہﷺنے اپنی بیٹیوں کو اپنی گرہ سے جہیز دیا ہے اگر دیا ہے تو سنت رسول اللہﷺہے اگر نہیں دیا تو سنت نہیں۔ قرآن وسنت سے ثابت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے سوال کیا ہے ’’رسول اللہ  ﷺ نے اپنی بیٹیوں کو اپنی گرہ سے جہیز دیا ہے ‘‘ ؟ تو جواباً گزارش ہے کہ مجھے اس چیز پر دلالت کرنے والی کوئی صحیح یا حسن حدیث معلوم نہیں۔(1)

وباللہ التوفیق

(1)جہیز کے متعلق میرا بھی یہی ذہن تھا لیکن ایک مرتبہ شیخ حافظ عمران عریف صاحب کے گھر میں اور بھائی حافظ عبدالرحمن ثانی صاحب نے اس مسئلہ پر تحقیق کی تو سنن ابن ماجہ ابواب الزہد ۔ باب ضجاع آل محمدﷺ میں ایک حدیث دیکھی جو اس طرح ہے

«عَنْ عَلِیٍّ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِﷺاَتَی عَلِيًّا وَّفَاطِمَةَ وَهُمَا فِیْ خَمِيْلٍ لَّهُمَا وَالْخَمِيْلُ الْقَطِيْفَةُ الْبَيْضَآءُ عَنِ الصُّوْفِ قَدْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِﷺجَهَّزَهُمَا بِهَا وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ اِذْخِرًا وَّقِرْبَةٍ»

 (سیرۃ النبی ﷺ جلد اول ص۲۰۴ علامہ شبلی نعمانی) ایک دفعہ حضرت علی ﷜ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور وہ دونوں اپنی خمیل میں تھے اور خمیل سفید چادر ہے اون کی جو رسول اللہ ﷺ نے ان کو جہیز میں دی تھی اور ایک تکیہ اور مشک بھی جہیز میں دی تھی ۔ اس حدیث کو شیخ البانی صاحب نے صحیح کہا ہے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا جب نکاح ہوا تھا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جہیز میں ان کو ایک قیمتی ہار دیا تھا ‘‘ 

 

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 321

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ