سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(281) جب حاملہ عورت کو خون کا دھبہ لگے تو اس کے روزے کا حکم

  • 19129
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 780

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری بیوی دو ماہ کی حاملہ ہے اس کو ایک دفعہ رمضان کی ابتدا میں عشاء کے بعد خون کا دھبہ لگا۔ کچھ دنوں کے بعد  غروب آفتاب سے پہلے پھر اس کو خون کا داغ لگا جس کا رنگ ہلکا تھا واضح رہے کہ اس نے مسلسل روزے رکھے ہیں اب اس پر کیا واجب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب عورت حاملہ ہو اور اس کو خون نکلے اور وہ خون حاملہ کی سابقہ عادت کے مطابق نہ ہو تو یہ خون کچھ بھی شمار نہیں ہو گا خواہ وہ ایک دھبہ ہو یا دو دھبے اور خواہ بہت سا خون اس لیے کہ حاملہ جو خون دیکھتی ہے اس کو فاسد خون شمار کیا جا ئے گا الایہ کہ وہ اس منظم عادت کے مطابق ہو جوحمل سے پہلے اس کی عادت تھی تو بلا شبہ وہ حیض ہو گا لیکن جب ایک دفعہ خون بند ہو جائے اور بعد میں یہ امور لا حق ہوں تو عورت روزہ رکھے گی اور نماز ادا کرے گی اس کا روزہ صحیح ہو گا اور ایسے ہی اس کی نماز اور اس کے ذمے کوئی کفارہ نہیں ہو گا۔ (فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 255

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ