سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(449) نکاح میں لڑکی کی رضا مندی ضروری ہے.!

  • 1907
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-01
  • مشاہدات : 1121

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بندہ مسئلہ خیار بلوغ میں پریشان ہے میری پریشانی کا حل یہ ہے حدیث نبی کریمﷺنے حضرت حمزہ کی صاحبزادی امامہ کا نکاح کمسنی میں عمر بن ابی سلمہ سے کر دیا اور حضور انورﷺنے فرمایا کہ بالغ ہونے کے بعد آپ کو رد یا قبول کرنے کا اختیار ہے آپ مہربانی فرما کر یہ جس حدیث کی کتاب میں ہے اس کا نام جلد نمبر صفحہ نمبر اور ایسی اور کوئی بھی حدیث ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے واسطے میرے حال پر رحم فرما کر ارسال فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کا درج کردہ واقعہ کافی تلاش کیا مگر تاہنوز مجھے نہیں ملا ویسے اس مسئلہ سے متعلقہ احادیث آپ مشکوۃ المصابیح باب الولی فی النکاح واستئذان المرأۃ میں دیکھ سکتے ہیں بالخصوص اس باب کی فصل ثالث کی پہلی حدیث:

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ جَارِيَةً بِکْرًا أَتَتْ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺفَذَکَرَتْْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِیَ کَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِیُّﷺرَوَاهُ اَبُوْدَاودُ»

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کیا ہے اور وہ ناپسند کرتی ہے تو نبی اکرمﷺنے اسے اختیار دے دیا‘‘

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 318

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ