سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(220) مسلمان عورت کا ہار اور انگوٹھی پہن کر تصویر یا آئینے کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا

  • 19067
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-11
  • مشاہدات : 632

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسلمان عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ گلے میں ہار اورہاتھ انگوٹھی پہن کر نماز ادا کرے یا وہ اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے سامنے تصویر یا آئینہ ہو؟ہمیں فائدے پہنچائیے اللہ آپ کو فائدہ پہنچائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ہر اس چیز سے دوررہے جو اس کو نماز میں مشغول کرے اور اس کو تشویش میں ڈالے لہٰذا اس کو یہ لائق نہیں کہ وہ آئینہ کی طرف اور کھلے دروازے یا کسی اور ایسی چیز کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرے جو اس کو نماز سے مشغول کرے یا اس کو تشویش میں مبتلا کرے ۔ ایسے آدمی کو یہ بھی لائق نہیں ہے کہ وہ ایسی جگہ میں نماز ادا کرے جہاں پر تصویریں لٹک رہی ہوں یانصب ہوں کیونکہ ایسا کرنے میں ان لوگوں کی مشابہت ہے جو تصوریروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ ایک لحاظ سے ہے اور دوسرے اس وجہ سے بھی کہ یہ تصویریں جب اس کے سامنے ہوں گی تو وہ اس کی نماز میں تشویش پیدا کریں گی اور ان کو دیکھنے کی وجہ سے بندہ نماز سے مشغول و غافل ہو جائے گا۔

رہا عورت کا دوران نماز زیورات پہننا تو یہ بھی ان چیزوں سے ہے تو نماز پڑھنے والی کو نماز سے غافل کرے گی لہٰذا اس کو اپنی نماز میں کوئی ایسا عمل کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو اس کو نماز سے غافل کردے بلکہ وہ زیورات کے پہننے اور کاسمیٹکس کے استعمال کو نماز سے فراغت تک مؤخر کردے لیکن اگر وہ ایسا کر لے اور اس کو زیورات پہننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور زیادہ عمل نہیں کرنا پڑتا تو اس کی نماز صحیح ہو گی کیونکہ دوران نماز معمولی ساعمل مثلاًکپڑا اور پگڑی درست کرنا گھڑی پہننا اور اس طرح کے کام نماز کو متاثر نہیں کرتے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 208

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ