سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(182) کیا مسجد حرام میں مقتدی یا منفرد نمازی کے آگے سے عورت کا گزرنا نماز کو توڑدیتا ہے؟

  • 19030
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-08
  • مشاہدات : 353

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت مسجد حرام میں امام کے ساتھ یا اکیلے نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزر کر اس کی نماز کو توڑ دیتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے نماز توڑنے کے متعلق صحیح مسلم میں ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث ثابت ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"يقطع صلاة الرجل المسلم -إذا لم يكن بين يديه مثل مؤخرة الرحل- المرأة والحمار"[1]

"مسلمان آدمی کی نماز کو جب اس کے آگے کجاوے کے پچھلے حصے کے برابر سترہ نہ ہو عورت ،گدھا اور سیاہ کتا توڑ دیتے ہیں۔"

لہٰذا جب کوئی عورت نمازی اورسترہ کے درمیان سے اگر اس کے سامنے سترہ ہو گزرے یا اس کے اور اس کی سجدہ کی جگہ کے درمیان سے گزرے جبکہ اس کے آگے سترہ نہ ہو تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی اور اس پر نئے سرے سے نماز ادا کرنا واجب ہو گا چاہے وہ آخری رکعت میں ہی کیوں نہ ہو۔ از سر نو نماز ادا کرنا پڑے گی اور راجح قول کے مطابق اس مسئلہ میں مسجد حرام اور دیگر مساجد میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ اس کے دلائل عمومی ہیں جن میں کسی جگہ کی کوئی تخصیص نہیں اسی لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اس مسئلہ کو بیان کرنے کے لیے یوں باب قائم کیا ہے "باب السترۃ بمکۃ وغیرھا "مکہ اور دیگر جگہوں میں سترہ کا بیان اور عموم سے حجت پکڑی ہے لہٰذا اس بنیاد پر جب عورت کسی نماز ی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرےیا نمازی اور اس کی سجدہ گاہ کے درمیان سے گزرے تو اس پر نمازی پر نمازی کو دہرانا واجب ہو گا الایہ کہ وہ نمازی مقتدی ہو کیونکہ مقتدیوں کے لیے امام کا سترہ معتبر ہو تا ہے لہٰذا کسی آدمی کے لیے ان مقتدیوں کے آگے سے گزرنا جائز ہے جو امام کے پیچھے نماز ادا کر رہے ہوں اور گزرنے والا گناہ گار نہیں ہو گا لیکن مقتدیوں کے علاوہ کسی شخص کے سامنے سے گزرنا حرام ہے کیونکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے ۔

"لو يعلم الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ مِنْ الإِثْمِ ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ ، خَيْراً لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "[2]

"اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس پر کتنا گناہ ہےتو وہ چالیس (سال) تک بیٹھے رہنا اپنے لیے بہتر سمجھے ۔"

بزار نے روایت کیا ہے کہ حدیث میں موجود " أَرْبَعِينَ "[3]سے چالیس سال مراد ہے۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین  رحمۃ اللہ علیہ )


[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (511)

[2] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث(488)صحیح مسلم رقم الحدیث (507)

[3] ۔البحر الزخار رقم الحدیث (3198)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 181

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ