سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

تقلید کا عدم جواز

  • 19
  • تاریخ اشاعت : 2011-09-19
  • مشاہدات : 4437

سوال




السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ
میرا سوال  یہ ہے کہ کیا  کسی مفتی سے بغیر دلیل کا  مطالبہ کئے  مسئلہ پوچھنا، تقلید کہلاتا ہے۔؟ امام شوکانی رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے کہا ہے کہ عامی کا مفتی سے مسئلہ پوچھنا اور قاضی کا لوگوں کی شہادت قبول کرنا تقلید میں شامل نہیں ہیں۔

السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

میرا سوال  یہ ہے کہ کیا  کسی مفتی سے بغیر دلیل کا  مطالبہ کئے  مسئلہ پوچھنا، تقلید کہلاتا ہے۔؟ امام شوکانی رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے کہا ہے کہ عامی کا مفتی سے مسئلہ پوچھنا اور قاضی کا لوگوں کی شہادت قبول کرنا تقلید میں شامل نہیں ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں!اگر وہ اس سے دلیل کا مطالبہ نہ کرے اور بغیر دلیل جانے عالم کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے اور اس کا مفتی یا عالم دین کے بارے یہ حسن ظن بھی نہ ہو کہ وہ کتاب وسنت سے مسئلہ بتلا رہا ہے تویہ تقلید ہے اور یہ شرعا جائز نہیں ہے۔

اوراگر مستفتی یا عامی پر یہ واضح ہو جائے کہ مفتی یا امام کا قول خلاف قرآن یا سنت ہے تو پھر اس کی تقلید حرام اور شرک ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اگر دلیل طلب کرے تو اتباع ہے اور یہ جائز ہے کیونکہ یہ کتاب وسنت کی پیروی ہے اور کتاب وسنت کی پیروی مطلوب ومقصود ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی ٰکمیٹی

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC