سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(135) زردی مائل مٹیالے خون اور سفید رطوبت کی وضاحت

  • 18983
  • تاریخ اشاعت : 2017-03-07
  • مشاہدات : 1541

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم امید کرتی ہیں کہ آپ زردی مائل اور مٹیالے رنگ کے خون کی ہمارے لیے وضاحت کریں گے۔ کیا ان کا حکم حیض کا حکم ہے؟پھر سفید رطوبت کی کیا حیثیت ہے؟کیا ان کے ساتھ عورت پر لازم ہے یہ جاننے ہوئے کہ خون حیض بند ہو گیا۔ کہ وہ غسل کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مٹیالے اور زردی مائل خون سے مراد وہ سیال مادہ ہے مٹیالے رنگ میں تبدیل ہو کر عورت (کے رحم) سے خارج ہوتا ہے جیسا کہ گوشت دھونے کے بعد پانی کا رنگ ہوتا ہے یعنی سرخ لیکن اس کی سرخی واضح نہیں ہوتی ۔ اور "صفرہ"سے مراد وہ پیلا پانی ہے جو عورت (کے رحم) سے نکلتا ہے اس زردی مائل اور مٹیالے سیال مادوں کے متعلق علماء کے پانچ اقوال ہیں۔ سب سے صحیح قول یہ ہے کہ اگر یہ حیض کے متصل بعد نکلے تو وہ حیض شمار ہو گا بشرطیکہ وہ طویل نہ ہو۔اور جو حیض کے ساتھ متصل نہ ہو وہ حیض شمار نہیں ہو گا۔ اور سفید رطوبت سے مراد یہ ہے کہ جب عورت اپنی شرمگاہ پر روئی رکھے اور اس کے رنگ کے بدلنے پر غور کرے۔ اگر روئی کا رنگ تبدیل ہوجائے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابھی خون منقطع نہیں ہوا۔ بعض عورتوں کو سفید رطوبت نہیں آتی ہے یعنی ان کو ایک حیض سے دوسرے حیض تک مٹیالے رنگ کا مادہ نکلتا رہتا ہے تو خون کا بند ہونا ان کے طہر کی نشانی ہے اگرچہ زردی باقی ہو کیونکہ اس کو سفیدی نہیں آتی۔ اور فی الواقع حیض کے مسائل بعض حالات میں عورتوں کے لیے بڑے مشکل ہوتے ہیں لیکن فطری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرنے والی خواتین کو حیض میں کوئی مشکل نہیں ہو تی۔ ان مشکلات کا اکثر سبب بننے والی جڑی بوٹیاں یعنی وہ گولیاں ہیں جو وہ استعمال کرتی ہیں یہ گولیاں رحم کے لیے ضرررساں ہونے کی وجہ سے عورتوں کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دیتی ہیں اور ان مفتیان پر بھی جن سے وہ سوال کرتی ہیں لہٰذا میں خواتین کو ان گولیوں کے استعمال سے منع کرتا ہوں خاص طور پروہ عورتیں جن کی ابھی شادی نہیں ہوئی ۔ مجھ کو بعض ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ ان گولیوں کے استعمال سے بانجھ پن پیدا ہوتا ہے اور خطرہ لاحق ہو جا تا ہے کہ وہ عورت بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے گی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے غیر فطری طریقے منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔پس حیض ایک طبعی خون ہے جس نے اس کی فطری رفتار کو روکنے کے لیے کوئی دوائی کھائی تو جسم پر اس کا رد عمل ایک لازمی امر ہے کیونکہ اس نے اپنے جسم کو فطرت کے اس تقاضے سے روکا ہے جس پر اللہ عزوجل نے اس کو پیدا کیا ہے لہٰذا میں (ایک مرتبہ پھر) عورتوں کو ان گولیوں کے استعمال سے خبردار کرتا ہوں۔(فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین  رحمۃ اللہ علیہ )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 154

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ