سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(437) دوسری شادی کے متعلق..!

  • 1895
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-01
  • مشاہدات : 1597

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میری پہلی بیوی موجود ہے میں نے ایک بیوہ عورت سے چوری چھپے دوسری شادی کر لی ہے نکاح کے وقت صرف دو گواہ تھے ایک عورت اور ایک مرد نکاح کے بعد حق مہر بھی ادا کر دیا ہے لیکن حکومت پاکستان کے قانون کے مطابق کسی رجسٹر پر اندراج نہیں کروایا کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری پہلی بیوی موجود ہے میں نے ایک بیوہ عورت سے چوری چھپے دوسری شادی کر لی ہے نکاح کے وقت صرف دو گواہ تھے ایک عورت اور ایک مرد نکاح کے بعد حق مہر بھی ادا کر دیا ہے لیکن حکومت پاکستان کے قانون کے مطابق کسی رجسٹر پر اندراج نہیں کروایا کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر بوقت نکاح گواہ بمطابق نصاب موجود تھے اور عورت کے ولی نے آپ کے ساتھ اس کا نکاح کیا یا ولی نے آپ کے ساتھ نکاح کی عورت کو اجازت دی تو پھر آپ کا یہ نکاح درست اور صحیح ورنہ نکاح درست نہیں ہے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 313

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ