سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

اللہ کے نام پر دی گئی چیز کھانا

  • 189
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-06
  • مشاہدات : 538

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
السلام علیکم اگر کوئی آدمی چاہے وہ شیعہ ہو یا بریلوی ہو یا دیوبندی ہو یا اہلحدیث ہو۔یہ کہہ کر کوئی کھانے کی چیز دے جائے کہ یہ ہم نے اللہ کے نام پر خیرات کی ہے تو کیا کھا لینا جائز ہے یا اس کی نیت پر شک کیا جا سکتا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

السلام علیکم اگر کوئی آدمی چاہے وہ شیعہ ہو یا بریلوی ہو یا دیوبندی ہو یا اہلحدیث ہو۔یہ کہہ کر کوئی کھانے کی چیز دے جائے کہ یہ ہم نے اللہ کے نام پر خیرات کی ہے تو کیا کھا لینا جائز ہے یا اس کی نیت پر شک کیا جا سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نیت پر شک قرائن کی بدولت ہوتا ہے اور اگر قرائن نہ ہوں تو شک کی کوئی وجہ نہیں ہے مثلا ٢٢ رجب کو کوئی شیعہ پڑوسی آپ کے ہاں کچھ کھانے کو بھیجتا ہے یا چاند کی گیارہویں تاریخ کو آپ کے بریلوی ہمسائے باقاعدگی سے آپ کے ہاں کچھ بھیجتے ہیں وغیرہ ذلک۔

لہذا جب تک قرینہ نہ ہو تو ظاہر کا اعتبار کرنا چاہیے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی دعوتیں بھی قبول کی ہیں لہذا اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز میں سے کچھ لینا جائز ہے جبکہ وہ نفلی صدقات یا ہدایا وغیرہ میں سے ہو اور اگر فرضی صدقات یعنی زکوۃ وغیرہ ہے تو صرف مستحقین کے لینا جائز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ