سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(51) وہ عورت جو احتلام کے وقت کپڑوں پر منی نہ گرنے دے؟

  • 18899
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-28
  • مشاہدات : 435

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب مجھے احتلام(ہونا قریب) ہوا تو میں چوکنی ہوئی اور منی کو اپنے کپڑوں پر گرنے سے روکا اور جلدی سے اس کو بیت الخلا میں گرادیا۔اب کیا مجھ پر نماز اور تلاوت قرآن کے لیے غسل واجب یا صرف وضو ہی کافی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت حال میں تو آپ پر غسل کرنا واجب ہے ،خواہ آپ نے اپنے کپڑوں میں منی گرائی یا لیٹرین میں،کیونکہ احتلام کے معاملے میں حکم منی کے نکلنے پر مبنی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے:

"اَلْمَاءُ مِنْ اَلْمَاءِ"[1]

"غسل منی نکلنے سے واجب ہوتاہے۔"

نیز جب ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کرتے ہوئے کہا:

" إن الله لا يستحيي من الحق هل على المرأة من غسل إذا هي احتلمت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم نعم إذا رأت الماء"[2]

"بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، جب عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل کرناواجب ہوجاتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"ہاں،جب وہ(اپنے کپڑوں وغیرہ پر) منی دیکھے۔"(سعودی فتویٰ کمیٹی)


[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث(343)

[2] ۔صحیح البخاری رقم الحدیث(130) صحیح مسلم رقم الحدیث (313)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 95

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ