سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(22) کیا وضو عورت کا بچے کے پاخانے کو دھونا ناقص وضو ہے؟

  • 18870
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-28
  • مشاہدات : 119

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز کے لیے باوضو عورت کےبچے نے پاخانہ کیا اور ضرورت تھی کہ اس کو دھویا جائے۔ اس باوضو خاتون نے اس کودھویا اور اس کی نجاست کو صاف کیا تو کیا ایسا کرنے سے اس عورت کا وضو ٹوٹ جا تا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز کے لیے باوضو عورت کےبچے نے پاخانہ کیا اور ضرورت تھی کہ اس کو دھویا جائے۔ اس باوضو خاتون نے اس کودھویا اور اس کی نجاست کو صاف کیا تو کیا ایسا کرنے سے اس عورت کا وضو ٹوٹ جا تا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر وہ بچے کی پیشاب اور پاخانے والی جگہ کو چھوتی ہے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔البتہ اگر وہ بچے کی دونوں شرمگاہوں کو چھوئے بغیر اس کو دھوتی ہے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ خواہ وہ اپنے ہاتھ سے ہی کیوں نہ گندگی کو دھوئے۔صرف بچے کی صفائی ستھرائی کے بعد اپنا ہاتھ دھولے اور اس بات کی احتیاط بھی کرے کہ اس کے بدن یا کپڑے پر نجاست نہ گرنے پائے۔(سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم آپ الشیخ  رحمۃ اللہ علیہ )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 69

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC