سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(429) ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہوئی عورت سے نکاح کرنا

  • 1887
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-01
  • مشاہدات : 807

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی حنفی طریقہ کے مطابق یعنی بدعت طریقہ کے مطابق عورت کو طلاق دیتا ہے۔ میرا مطلب ہے ایک مجلس میں تین طلاق دیتا ہے کیا اس عورت کے ساتھ اہل حدیث کا نکاح ہو سکتا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک تو صرف ایک ہی طلاق ہوتی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی حنفی طریقہ کے مطابق یعنی بدعت طریقہ کے مطابق عورت کو طلاق دیتا ہے۔ میرا مطلب ہے ایک مجلس میں تین طلاق دیتا ہے کیا اس عورت کے ساتھ اہل حدیث کا نکاح ہو سکتا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک تو صرف ایک ہی طلاق ہوتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات تو آپ ماشاء اللہ جانتے ہی ہیں کہ یکمشت دی ہوئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہے اس کے بعد عدت کے اندر اندر خاوند اپنی اس مطلقہ بیوی سے بلانکاح رجوع کر سکتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنۡ أَرَادُوٓاْ إِصۡلَٰحٗاۚاً﴾--بقرة228

’’اور خاوند ان کے بہت حقدار ہیں ساتھ پھیر لینے ان کے کے بیچ اس کے اگر چاہیں صلح کرنا‘‘ اور اگر عدت گذر جائے تو خاوند اپنی اس مطلقہ بیوی سے نیا نکاح کر سکتا ہے بشرطیکہ میاں بیوی دونوں راضی ہوں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ﴾--بقرة232

’’اور جب طلاق دو تم عورتوں کو پس پہنچیں عدت کو پس مت منع کرو ان کو یہ کہ نکاح کریں خاوندوں اپنے سے جب راضی ہوں‘‘ اس لیے آپ کی مسئولہ صورت میں اہل حدیث آدمی کا حنفی آدمی کی اس مطلقہ بیوی سے بعد از عدت نکاح ہو سکتا ہے إلاَّ یہ کہ وہ مطلقہ بیوی اپنے خاوند کے پاس رہنے پر ہی راضی ہو تو پھر وہ اپنے اس طلاق دینے والے خاوند سے عدت کے اندر رجوع اور عدت کے بعد نکاح کر سکتی ہے کیونکہ شریعت حنفیوں اہل حدیثوں اور سب مسلمانوں کے لیے ایک ہی ہے دو یاچار پانچ نہیں۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 309

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ