سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(09) نالوں کے ان پانیوں کا حکم جن میں کیمیائی مواد کی آمیزش ہو جاتی ہے

  • 18857
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-28
  • مشاہدات : 312

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نالوں کے ان پانیوں کا کیا حکم ہے جن کے ساتھ کیمیائی مواد مل جاتا ہے اور ان کے ساتھ کھیتوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔وہ پانی اگر کپڑے کو لگ جائے تو کیا وہ کپڑا پلید ہوجاتاہے؟ایسے پانیوں سے وضو کرنے کا کیا حکم  ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نجس پانی جب تحلیل ہوجائے اور اپنی حقیقت سے نکل جائے تو وہ دوسری حقیقت کے حکم میں آجاتا ہے وہ اس وقت تک نجس اور پلید نہیں ہوتا جب تک کسی نجاست کی وجہ سے اس کے اوصاف ثلاثہ:رنگ،بو اور ذائقہ نہ بدل جائیں۔پاک پانی کا  رنگ،بو اورذائقہ نہیں ہوتا۔اس میں قاعدہ وہ ہے جو حدیث میں بیان ہوا ہے:

"(وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاءُ طَهُورٌ، لاَ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ)"[1]

"پانی پاک ہے،اسے کوئی چیز پلید نہیں کرتی۔"

اور یہی وہ قاعدہ ہے جو تلقین و الی حدیث کا فیصلہ کرتا ہے،پس جب پانی دو قلوں سے کم ہو اور اس میں نجاست گر جائے اور وہ پانی کی حقیقت کو بدل دے تو پانی پلید ہوجائے گا اگرچہ وہ دو قلوں سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔(علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ )


[1] ۔صحیح سنن ابی داود،رقم الحدیث(66)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 60

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ