سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(07) جس پانی کو تنہا عورت نے استعمال کیا؟

  • 18855
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-28
  • مشاہدات : 311

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایسے پانی کے متعلق کیا حکم ہے جس کو تنہا عورت نے استعمال کیا ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی فقیہ کایہ قول کہ ایسا تھوڑا سا پانی کسی(محدث) آدمی کے حدث کو دور نہیں کرتا جس پانی سے عورت نے تنہا حدث کے بعد کامل طہارت حاصل کی ہو۔یہ مسئلہ مسائل منفردہ میں سے ہے جبکہ جمہور اہل علم کا موقف یہ ہے کہ ایسا پانی مرد کے حدث کو زائل کردیتا ہے لیکن یہ پانی ناقص ہے(اور اس کے متعلق جومنع کی روایت ہے اس میں ) صرف نہی تنزیہی ہے تاکہ اس حدیث اور میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی حدیث کہ:

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی طہارت کے بعد بچے ہوئے پانی سے وضو کیا"میں تطبیق ہو سکے۔(سماحۃ الشیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ  رحمۃ اللہ علیہ )

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 58

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ