سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(1216) ماں کا بیٹوں میں سے ایک کے ساتھ زیادہ الفت کا اظہار کرنا

  • 18823
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-28
  • مشاہدات : 212

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ماں کے لیے جائز ہے کہ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کے ساتھ زیادہ الفت و پیار کا اظہار کرے؟ اور ایسے ہی پوتوں کا معاملہ ہے، جبکہ سب ہی بیٹے پوتے پوتیاں اس کے ساتھ حسن سلوک میں برابر ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ماں باپ پر لازم ہے کہ اپنی اولاد میں عدل سے کام لیں اور عطیہ و ہدیہ وغیرہ دینے میں کسی کو دوسرے پر افضیلت نہ دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی اولادوں میں عدل کیا کرو۔" (صحیح بخاری،کتاب الھبۃ وفضلھا،باب الاشھاد فی الھبۃ،حدیث:2447ومصنف ابن ابی شیبۃ:6/233،حدیث:30989۔)

آپ علیہ السلام نے ایک باپ سے یہ بھی دریافت فرمایا تھا: "کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ وہ تیرے ساتھ حسن سلوک میں برابر ہوں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان میں برابری کرو۔" (صحیح مسلم،کتاب الھبات،باب کراھیۃ تفضیل بعض الاولادفی الھبۃ،حدیث:1623وسنن النسائی،کتاب النحل،باب ذکر اختلاف الفاظ الناقلین لخبر النعمان،حدیث:3680وسنن ابن ماجہ،کتاب الھبات،باب الرجل ینحل ولدہ،حدیث:2375۔)

اکابر علمائے کرام اس ارشاد نبوی کی روشنی میں اپنے سب بچوں کو پیار دینے، ان کے ستھ ہنسی کھیل کرنے اور ان کو تکریم دینے میں برابری کیا کرتے تھے۔ مگر بعض احوال میں کئی چیزیں درگزر کے بھی لائق ہوتی ہیں، مثلا کسی کو چھوٹا ہونا یا بیمار ہونا وغیرہ ایسے اسباب ہیں کہ ان میں مشقت بڑھ جاتی ہے۔ ورنہ اصول طور پر ہر طرح کے معاملہ میں ان کے ساتھ برابری کرنا لازم ہے، بالخصوص جب وہ اطاعت اور حسن سلوک میں بھی برابر ہوں۔ (عبداللہ بن الجبرین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 860

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ