سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(1212) غیر مسلموں کے ساتھ کھانا کھانا

  • 18819
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-28
  • مشاہدات : 164

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا ہندوؤں اور عیسائیوں جیسے کافروں کے ساتھ میل جول رکھنا، اکٹھے کھانا پینا اور باتیں کرنا جائز ہے؟ یا دین اسلام کی دعوت کے پیش نظر ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرناا جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ہندوؤں اور عیسائیوں جیسے کافروں کے ساتھ میل جول رکھنا، اکٹھے کھانا پینا اور باتیں کرنا جائز ہے؟ یا دین اسلام کی دعوت کے پیش نظر ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرناا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ کے دین کی دعوت دینے کی نیت سے ان کے ساتھ میل جول، اکٹھے بیٹھنا اور انس کا اظہار کرنا جائز ہے تاکہ اسلامی تعلیمات ان کے سامنے واضح کی جا سکیں اور انہیں دین اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی جائے اور بتایا جائے کہ بہترین انجام صرف اہل اسلام ہی کا ہے اور ان کے علاوہ دوسرے سب لوگوں کے لیے رسوائی اور برا انجام ہے۔ اور ساتھ ہی آدمی کو اللہ سے اپنے لیے استغفار بھی کرنا چاہئے کیونکہ آدمی ان کافروں کے سامنے دوستی اور محبت کا اظہار کرتا ہے، اور ان لوگوں سے میل جول کا انجام عموما اچھا نہیں ہوتاا۔ (عبداللہ الجبرین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 858

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ