سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کیا منسوخ قرآنی آیات قرآن سے محو کردی گئی ہیں؟

  • 188
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-06
  • مشاہدات : 1808

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج میں نے بہت ہی عجیب بات سنی ، وہ یہ کہ قرآن کی چند آیتیں منسوخ ہونے کے بعد قرآن سے ہی نکال دی جاتی تھیں اور وہ صحابہ کے ذہن سے بھی نکال دی جاتی تھیں،کیا یہ درست ہے۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 جمہور اہل علم اصولیین، فقہاء، محدثین اور مفسرین کے نزدیک یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید میں کچھ ایسی آیات منزل من اللہ تھیں، جن کی تلاوت  بعد میں منسوخ کر دی گئی اور اس بارے صحیحین میں کئی ایک روایات موجود ہیں۔ مثلا صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق شروع میں آیت رجم قرآن میں نازل ہوئی تھی اور بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی تھی۔ اسی طرح صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق والدین کے بارے بے رغبتی کو کفر قرار دینے والی ایک آیت مبارکہ منسوخ التلاوۃ ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق صحابہ کے لیے سورۃ توبہ کے برابر حجم کی سورت اور مسبحات کی طرح کی ایک سورت بھی ذہنوں سے محو کر دی گئی اور انھیں اس بارے صرف اتنا یاد تھا کہ ایسی ایسی کوئی سورت نازل ہوئی تھی اور اب ہمارے ذہنوں سے اٹھا لی گئی ہے۔

جہاں تک اس کی حکمت کا تعلق ہے تو اس کی ایک حکمت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ شروع میں لوگوں کو تفصیلی احکام دیے گئے تا کہ عمل میں آسانی ہو اور جب لوگوں کے عمل میں پختگی آ گئی تو ان تفصیلات کو اٹھا لیا گیا اور قرآن مجید اختصار کی طرف منتقل ہو گیا۔بعض اہل علم کے مطابق اس سے مقصود مسلمانوں کی آزمائش تھی، جب کہ بعض کے نزدیک یہ تعبدی امور میں سے ہے اور اس کی حکمت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ