سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(1030) ایام مخصوصہ میں قرآن کو ہاتھ لگانا

  • 18637
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-22
  • مشاہدات : 212

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا عورت کے لیے اس کے ایام مخصوصہ میں ہاتھ لگائے بغیر قرآن کریم پڑھنا جائز ہے؟ کیونکہ مدرسہ میں یہ ایک لازمی مضمون ہے، اور ہم عذر سے بھی ہوتی ہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت کے لیے اس کے ایام مخصوصہ میں ہاتھ لگائے بغیر قرآن کریم پڑھنا جائز ہے؟ کیونکہ مدرسہ میں یہ ایک لازمی مضمون ہے، اور ہم عذر سے بھی ہوتی ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حائضہ عورت کے لیے قرآن مجید کو پکڑنا اور چھونا جائز نہیں ہے، کیونکہ اسے مطہر اور پاکیزہ لوگوں کے علاوہ دوسرے ہاتھ نہیں لگا سکتے ہیں لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ اور اسے یہ بھی جائز نہیں کہ اسے زبانی پڑھے۔ کیونکہ قرآن کریم ایک جلیل القدر عظیم الشان کتاب ہے۔ اور حدیث میں ہے:

لا أحل القرآن الحائض ولا جنب

"میں حائضہ اور جنابت والے کے لیے قرآن کریم کو حلال نہیں کرتا۔" (یہ الفاظ مجھے کتب احادیث میں نہیں ملے۔(عاصم))

تاہم بعض علماء نے امتحانات وغیرہ کے مواقع پر ضرورت کے تحت لازمی حد تک (چھونے اور پڑھنے) کی اجازت دی ہے۔ (صالح بن فوزان)

ایک دوسرے موقع پر دیا گیا جواب:

جواب: نفاس والی عورت کو قرآن مجید پکڑنا اور اس کی قراءت کرنا حرام ہے، جب تک کہ اسے بھول جانے کا اندیشہ نہ ہو، جیسے کہ حائض ہوتی ہے۔ (صالح بن فوزان)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 724

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ