سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(1029) ایامِ مخصوصہ میں امتحان میں آیاتِ قرآنی لکھنا

  • 18636
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-22
  • مشاہدات : 176

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہم گرلز کالج کی طالبات ہیں۔ نصاب کے مطابق ہم نے قرآن کریم کے دو پارے بھی حفظ کرنے ہوتے ہیں۔ تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے امتحانات اور ہمارے ماہانہ ایام ایک وقت میں آ جاتے ہیں۔ کیا اس صورت میں قرآن کریم لکھنا اور یاد کرنا جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم گرلز کالج کی طالبات ہیں۔ نصاب کے مطابق ہم نے قرآن کریم کے دو پارے بھی حفظ کرنے ہوتے ہیں۔ تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے امتحانات اور ہمارے ماہانہ ایام ایک وقت میں آ جاتے ہیں۔ کیا اس صورت میں قرآن کریم لکھنا اور یاد کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماء کے صحیح تر قول کے مطابق حیض اور نفاس والی عورت کو قرآن کریم پڑھنا جائز ہے، مگر اسے چھوا نہ جائے۔ کیونکہ اس کی مقابل کوئی ایسی دلیل ثابت نہیں ہے جو منع ثابت کرتی ہو۔ لہذا اس حالت میں جائز ہے کہ عورت کسی حائل کے ساتھ (یعنی کسی پاک کپڑے وغیرہ کے ساتھ) قرآن مجید کو پکڑ لے۔ اور یہی حکم اس رزق کا ہے جس پر بوقت ضرورت قرآن کریم لکھنا ہے۔

البتہ جنبی (مرد ہو یا عورت) غسل کیے بغیر قرآن مجید نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ اس بارے میں صحیح حدیث ثابت ہے، اور حیض اور نفاس والی کو جنبی پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ حیض اور نفاس کی مدت طویل اور جنابت کی مدت انتہائی قلیل ہوتی ہے۔ جنبی کے لیے جنابت کے بعد جلد ہی بروقت غسل کر لینا عین ممکن ہوتا ہے۔ (عبدالعزیز بن باز)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 724

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ