سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(394) اعتکاف کرنے کا صحیح طریقہ

  • 1850
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-28
  • مشاہدات : 1550

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عرض یہ ہے کہ کراچی میں ایک مولوی صاحب نے جو کہ مسلکاً اہل حدیث ہے ایک بڑا فتنہ کھڑا کر دیا ہے جس سے لوگ پریشان ہیں رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھنے سے متعلق یہ تحریر ان کی لکھی ہوئی ہے ایک عدد فوٹو کاپی آپ کو ارسال کر رہا ہوں اس کو آپ غور سے پڑھنے کے بعد مناسب جواب تحریر فرمائیں اور جواب مفصل ہو تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں جو انتشار پھیل چکا ہے وہ درست ہو جائے اوراگر واقعی اعتکاف کا طریقہ کار وہی ہے جو انہوں نے تحریر کیا ہے توتصفیہ کیا جائے اور اتفاق کیا جائے؟
اعتکاف شروع کرنے کا صحیح طریقہ
اما بعد ہر قسم کی نیکی وعبادت کے لیے بنیادی طور پر دو شرطیں انتہائی ضروری ہیں اول یہ کہ عبادت خالصۃً اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لیے کی جائے اور عبادت کرنے کا طریقہ عین سنت نبویﷺ کے مطابق ہو ، گو کہ اکثر لوگ عبادت کرتے تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لیے ہیں مگر آپ کے امر کی قطعاً فکر نہیں کرتے یا ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ کیا وہ عبادت رسول اللہﷺکے مطابق کر رہے ہیں یا آبائی وعلاقائی رسم ورواج کے مطابق ، ایسے لوگ غیر شعوری طور پر عبادت سنت نبویﷺ کے خلاف کر کے وہ بدعت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور بدعت کے متعلق رسول اللہﷺ کا فرمان ہے : «شَرُّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا»(مسلم-الجمعة باب تخفيف الصلوة والخطبة)  بد ترین اعمال بدعات ہیں پھر فرمایا : «کُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ»(ابوداؤد) ہر بدعت گمراہی ہے ۔ پھر فرمایا «وَکُلُّ ضَلاَلَةٍ فِی النَّارِ»(نسائى) اور ہر گمراہی جہنم میں (لے جانے والی) ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے طریقہ کے خلاف کی گئی عبادت ، عبادت نہیں بلکہ بدعت وگمراہی ہے۔ اور جہنم میں لے جانی والی ہے ایک اور فرمان  نبویﷺ ہے ، «مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوََ رَدٌّ»(بخارى جلد اول كتاب البيوع ص287)  ترجمہ جس نے ایسا عمل کیا کہ جس پر ہمارا امر (یعنی جس کا کرنا ہم سے ثابت) نہ ہو تو وہ عمل (قیامت کے دن) مسترد کر دیا جائے گا۔ ان تمہیدی کلمات کی روشنی میں اب آئیے مسئلہ زیر عنوان کی طرف رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنے والے اعتکاف اس طرح شروع کرتے ہیں کہ بیس روزے کی شام قبل غروب آفتاب اعتکاف کی نیت سے مسجد میں جاتے ہیں اور جائے اعتکاف میں داخل ہوئے بغیر رات مسجد میں گزار کر دوسرے دن اکیس روزے کی صبح معتکف (جائے اعتکاف) میں داخل ہوتے ہیں اس طرح اعتکاف دو مرحلوں میں شروع کرتے ہیں۔ اعتکاف شروع کرنے کا یہ طریقہ سنت رسول اللہﷺ کے سراسر خلاف ہے اس لیے کہ احادیث میں فجر کے وقت اعتکاف شروع کرنا آتا ہے۔ پہلی حدیث : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں : «کَانَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ يَعْتَکِفُ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ فَاِذَا صَلّٰی الْغَدَاةَ دَخَلَ مَکَانَه الَّذِیْ اعْتَکَفَ فِيْهِ»(صحيح بخارى كتاب الاعتكاف) ترجمہ : رسول اللہﷺ ہر رمضان میں اعتکاف اس طرح کرتے تھے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے۔ دوسری حدیث: «کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَّعْتَکِفَ صَلّٰی الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَکَفَه»(صحيح مسلم) تیسری حدیث :«کَانَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَّعْتَکِفَ صَلّٰی الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِیْ مُعْتَکَفِهِ»(ابوداؤد) دونوں احادیث کا ترجمہ : جناب رسول اللہﷺ اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھتے پھر جائے اعتکاف میں داخل ہو جاتے ۔ ان تینوں احادیث سے بالصراحت ثابت ہوا کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز پڑھ کر معتکف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کرتے تھے۔ ان صحیح صریح احادیث کے خلاف بلادلیل شام کے وقت اعتکاف شروع کرنا محض ایک رسم ہے جو کہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے جیسا کہ اوپر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے۔ ہم اپنے علم  کی حد تک دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ مروجہ طریقہ کے مطابق شام کے وقت اعتکاف شروع کرنا۔ اور شروع کرتے وقت جائے اعتکاف میں داخل نہ ہونا قطعاً کسی دلیل سے ثابت نہیں بلکہ یہ ایک رسم ہے جس پر بلاسوچے سمجھے عمل کیا جا رہا ہے ، یہ طریقہ صریحاً بدعت ہے اور احادیث کے نزدیک بدعت گمراہی ہے اور گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ مذکورہ تین احادیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کرتے تھے۔ لہٰذا شام کے وقت اور جائے اعتکاف میں داخل ہوئے بغیر اعتکاف شروع کرنا خلاف سنت ، بدعت اور گمراہی ہے علاوہ ازیں دوسری بدعت کی بات یہ ہے کہ اس رسم کے مطابق اعتکاف کرنے والے معتکف (جائے اعتکاف) میں اکیس روزے کی صبح کو داخل ہوتے ہیں ، صحیح حدیث سے بیس روزے کی فجر کو جائے اعتکاف میں داخل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ چوتھی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ»(صحيح بخارى-كتاب الاعتكاف-باب الاعتكاف فى العشر الاواخر)  ترجمہ : رسول اللہﷺ رمضان کی آخری دس راتوں کا اعتکاف کرتے تھے ، آخری دس دنوں میں اکیسویں شب شامل ہے جسے حدیث کے مطابق اعتکاف میں شامل کرنا ہے اور اعتکاف فجر سے شروع کرنا ہے جیسا کہ تین احادیث سے ثابت ہو چکا ہے لہٰذا چاروں احادیث پر عمل اس طرح ہو گا کہ بیس روزے کی فجر سے جائے اعتکاف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کیا جائے تاکہ بعد میں آنے والی اکیسویں شب اعتکاف میں شامل ہو سکے۔ اگر اکیس کی فجر سے اعتکاف شروع کیا جائے تو پھر اکیسویں شب جو پہلے گزر چکی ہو گی اعتکاف میں شامل نہیں ہوتی۔ ہر طرح کے مذہبی  ، مسلکی اور تقلیدی خیالات سے خالی  الذہن ہو کر غور فرمائیے کہ اکیسویں شب کو اعتکاف میں شامل کرنا ہے۔ اور اعتکاف فجر سے شروع کرنا ہے ، ایسی فجر بیس روزے کی ہوگی یا اکیس روزے کی ؟ لہٰذا اکیس کی صبح جائے اعتکاف میں داخل ہونا یہ تیسری بدعت ہے ، یعنی پہلی بدعت شام کے وقت اعتکاف شروع کرنا ، دوسری بدعت اعتکاف شروع کرتے وقت جائے اعتکاف میں داخل نہ ہونا۔ اور تیسری بدعت اکیس روزے کی فجر کو جائے اعتکاف میں داخل ہونا۔ خلاصہ یہ ہے کہ مروجہ طریقہ سارے کا سارا خلاف سنت بدعت وگمراہی ہے اور دوزخ میں لے جانے والا ہے اور سنت نبویﷺکے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ بیس روزے کی فجر کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کیا جائے۔ آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اگر آپ حق کے متلاشی ہیں اور اعتکاف شروع کرنے کا صحیح طریقہ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمارے پیش کردہ دلائل (احادیث) کو اصل کتب احادیث میں خود ملاحظہ کر لیں ۔ بعدہ مروجہ طریقہ پر عمل کرنے کرانے والے علماء کرام سے مروجہ طریقہ کے دلائل طلب کریں ۔ لازم ہے کہ دلائل احادیث سے ہوں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عرض یہ ہے کہ کراچی میں ایک مولوی صاحب نے جو کہ مسلکاً اہل حدیث ہے ایک بڑا فتنہ کھڑا کر دیا ہے جس سے لوگ پریشان ہیں رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھنے سے متعلق یہ تحریر ان کی لکھی ہوئی ہے ایک عدد فوٹو کاپی آپ کو ارسال کر رہا ہوں اس کو آپ غور سے پڑھنے کے بعد مناسب جواب تحریر فرمائیں اور جواب مفصل ہو تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں جو انتشار پھیل چکا ہے وہ درست ہو جائے اوراگر واقعی اعتکاف کا طریقہ کار وہی ہے جو انہوں نے تحریر کیا ہے توتصفیہ کیا جائے اور اتفاق کیا جائے؟

اعتکاف شروع کرنے کا صحیح طریقہ

اما بعد ہر قسم کی نیکی وعبادت کے لیے بنیادی طور پر دو شرطیں انتہائی ضروری ہیں اول یہ کہ عبادت خالصۃً اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لیے کی جائے اور عبادت کرنے کا طریقہ عین سنت نبویﷺ کے مطابق ہو ، گو کہ اکثر لوگ عبادت کرتے تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لیے ہیں مگر آپ کے امر کی قطعاً فکر نہیں کرتے یا ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ کیا وہ عبادت رسول اللہﷺکے مطابق کر رہے ہیں یا آبائی وعلاقائی رسم ورواج کے مطابق ، ایسے لوگ غیر شعوری طور پر عبادت سنت نبویﷺ کے خلاف کر کے وہ بدعت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور بدعت کے متعلق رسول اللہﷺ کا فرمان ہے : «شَرُّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا»(مسلم-الجمعة باب تخفيف الصلوة والخطبة)  بد ترین اعمال بدعات ہیں پھر فرمایا : «کُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ»(ابوداؤد) ہر بدعت گمراہی ہے ۔ پھر فرمایا «وَکُلُّ ضَلاَلَةٍ فِی النَّارِ»(نسائى) اور ہر گمراہی جہنم میں (لے جانے والی) ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے طریقہ کے خلاف کی گئی عبادت ، عبادت نہیں بلکہ بدعت وگمراہی ہے۔ اور جہنم میں لے جانی والی ہے ایک اور فرمان  نبویﷺ ہے ، «مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوََ رَدٌّ»(بخارى جلد اول كتاب البيوع ص287)  ترجمہ جس نے ایسا عمل کیا کہ جس پر ہمارا امر (یعنی جس کا کرنا ہم سے ثابت) نہ ہو تو وہ عمل (قیامت کے دن) مسترد کر دیا جائے گا۔ ان تمہیدی کلمات کی روشنی میں اب آئیے مسئلہ زیر عنوان کی طرف رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنے والے اعتکاف اس طرح شروع کرتے ہیں کہ بیس روزے کی شام قبل غروب آفتاب اعتکاف کی نیت سے مسجد میں جاتے ہیں اور جائے اعتکاف میں داخل ہوئے بغیر رات مسجد میں گزار کر دوسرے دن اکیس روزے کی صبح معتکف (جائے اعتکاف) میں داخل ہوتے ہیں اس طرح اعتکاف دو مرحلوں میں شروع کرتے ہیں۔ اعتکاف شروع کرنے کا یہ طریقہ سنت رسول اللہﷺ کے سراسر خلاف ہے اس لیے کہ احادیث میں فجر کے وقت اعتکاف شروع کرنا آتا ہے۔ پہلی حدیث : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں : «کَانَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ يَعْتَکِفُ فِیْ کُلِّ رَمَضَانَ فَاِذَا صَلّٰی الْغَدَاةَ دَخَلَ مَکَانَه الَّذِیْ اعْتَکَفَ فِيْهِ»(صحيح بخارى كتاب الاعتكاف) ترجمہ : رسول اللہﷺ ہر رمضان میں اعتکاف اس طرح کرتے تھے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے۔ دوسری حدیث: «کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَّعْتَکِفَ صَلّٰی الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَکَفَه»(صحيح مسلم) تیسری حدیث :«کَانَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَّعْتَکِفَ صَلّٰی الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِیْ مُعْتَکَفِهِ»(ابوداؤد) دونوں احادیث کا ترجمہ : جناب رسول اللہﷺ اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر کی نماز پڑھتے پھر جائے اعتکاف میں داخل ہو جاتے ۔ ان تینوں احادیث سے بالصراحت ثابت ہوا کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز پڑھ کر معتکف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کرتے تھے۔ ان صحیح صریح احادیث کے خلاف بلادلیل شام کے وقت اعتکاف شروع کرنا محض ایک رسم ہے جو کہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے جیسا کہ اوپر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے۔ ہم اپنے علم  کی حد تک دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ مروجہ طریقہ کے مطابق شام کے وقت اعتکاف شروع کرنا۔ اور شروع کرتے وقت جائے اعتکاف میں داخل نہ ہونا قطعاً کسی دلیل سے ثابت نہیں بلکہ یہ ایک رسم ہے جس پر بلاسوچے سمجھے عمل کیا جا رہا ہے ، یہ طریقہ صریحاً بدعت ہے اور احادیث کے نزدیک بدعت گمراہی ہے اور گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ مذکورہ تین احادیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کرتے تھے۔ لہٰذا شام کے وقت اور جائے اعتکاف میں داخل ہوئے بغیر اعتکاف شروع کرنا خلاف سنت ، بدعت اور گمراہی ہے علاوہ ازیں دوسری بدعت کی بات یہ ہے کہ اس رسم کے مطابق اعتکاف کرنے والے معتکف (جائے اعتکاف) میں اکیس روزے کی صبح کو داخل ہوتے ہیں ، صحیح حدیث سے بیس روزے کی فجر کو جائے اعتکاف میں داخل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ چوتھی حدیث : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ»(صحيح بخارى-كتاب الاعتكاف-باب الاعتكاف فى العشر الاواخر)  ترجمہ : رسول اللہﷺ رمضان کی آخری دس راتوں کا اعتکاف کرتے تھے ، آخری دس دنوں میں اکیسویں شب شامل ہے جسے حدیث کے مطابق اعتکاف میں شامل کرنا ہے اور اعتکاف فجر سے شروع کرنا ہے جیسا کہ تین احادیث سے ثابت ہو چکا ہے لہٰذا چاروں احادیث پر عمل اس طرح ہو گا کہ بیس روزے کی فجر سے جائے اعتکاف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کیا جائے تاکہ بعد میں آنے والی اکیسویں شب اعتکاف میں شامل ہو سکے۔ اگر اکیس کی فجر سے اعتکاف شروع کیا جائے تو پھر اکیسویں شب جو پہلے گزر چکی ہو گی اعتکاف میں شامل نہیں ہوتی۔ ہر طرح کے مذہبی  ، مسلکی اور تقلیدی خیالات سے خالی  الذہن ہو کر غور فرمائیے کہ اکیسویں شب کو اعتکاف میں شامل کرنا ہے۔ اور اعتکاف فجر سے شروع کرنا ہے ، ایسی فجر بیس روزے کی ہوگی یا اکیس روزے کی ؟ لہٰذا اکیس کی صبح جائے اعتکاف میں داخل ہونا یہ تیسری بدعت ہے ، یعنی پہلی بدعت شام کے وقت اعتکاف شروع کرنا ، دوسری بدعت اعتکاف شروع کرتے وقت جائے اعتکاف میں داخل نہ ہونا۔ اور تیسری بدعت اکیس روزے کی فجر کو جائے اعتکاف میں داخل ہونا۔ خلاصہ یہ ہے کہ مروجہ طریقہ سارے کا سارا خلاف سنت بدعت وگمراہی ہے اور دوزخ میں لے جانے والا ہے اور سنت نبویﷺکے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ بیس روزے کی فجر کی نماز پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہو کر اعتکاف شروع کیا جائے۔ آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اگر آپ حق کے متلاشی ہیں اور اعتکاف شروع کرنے کا صحیح طریقہ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمارے پیش کردہ دلائل (احادیث) کو اصل کتب احادیث میں خود ملاحظہ کر لیں ۔ بعدہ مروجہ طریقہ پر عمل کرنے کرانے والے علماء کرام سے مروجہ طریقہ کے دلائل طلب کریں ۔ لازم ہے کہ دلائل احادیث سے ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بندہ فقیر إلی اللہ نے ابو محمد سلطان احمد حجازی  حفظہ اللہ تعالیٰ  کے بیس رمضان کی فجر کو معتکف میں داخل ہونے کے دلائل پر خوب غور کیا ہے مگر ان میں اس مدعی کی نص مجھے نہیں ملی دس راتوں کے اعتکاف والی حدیث اور فجر پڑھ کر معتکف میں داخل ہونے والی حدیث دونوں پر عمل کی یہ صورت بھی درست ہے کہ بیس رمضان مغرب سے انسان مسجد میں رہے اور اکیس کی فجر کو معتکف میں داخل ہو جائے جو صورت حجازی صاحب پیش فرما رہے ہیں اس میں تو دس رات اور ایک دن کا اعتکاف بنتا ہے جبکہ حدیث نص صریح ہے کہ رسول اللہ  r دس رات کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے عشر اواخر پر ایک دن کا اضافہ کہیں یہ بھی سنت کے خلاف تو نہیں ؟

بہرحال بیس کی فجر کو معتکف میں داخل ہونے کی دلیل ابھی تک حجازی صاحب کے ذمہ ہے جو دلیل انہوں نے اب تک پیش فرمائی ہے وہ ان کے مدعی کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہے اس لیے آپ ان سے بیس کی فجر کو معتکف میں داخل ہونے کی دلیل طلب فرمائیں۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

روزوں کے مسائل ج1ص 284

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ