سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(844) صغیر السن بیٹی یا بیٹے کے مال سے خلع کا معاملہ کرنا

  • 18451
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-20
  • مشاہدات : 252

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا باپ کے لیے جائز ہے کہ اپنی صغیر السن بیٹی یا بیٹے کے مال سے خلع کا معاملہ کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں باپ کے لیے جائز ے کہ اپنے صغیر السن بیٹے کی طرف سے خلع کا معاملہ کرے اورطلاق دے دے۔ اور ایسے ہی صغیر السن بیٹی کے لیے بھی اس کے مال سے یہ معاملہ کر سکتا ہے۔ علامہ الموفق اور شارح اسی طرف مائل ہیں۔ یعنی جہاں مصلحت ہووہ کیا جا سکتا ہے ۔ اور "الانصاف" میں بھی اسی کو درست قرار دیا گیا ہے کہ یہ معاملہ اصل کے موافق ہے۔ کیونکہ باپ اپنے صغیر السن بچے/بچی کے تمام امور اور احوال میں، جن میں وہ مستقل بالذات نہیں ہے، نائب ہوتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 593

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ