سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(843) صغیر السن یا پاگل عورت کا خلع لینا

  • 18450
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-20
  • مشاہدات : 189

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی عورت صغیر السن ہو یا پاگل یا نادان ہو تو کیا اس کا خلع لینا درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت اگر پاگل ہو تو اسے مالی معاملات میں تصرف کا کوئی حق نہیں ہے، خواہ اس کے ولی نے اجازت بھی دی ہو، اور نہ ہی ولی کو اسے ان امور میں کوئی اجازت دینی چاہئے کیونکہ اسے عقل و شعور ہی نہیں ہے۔ اور جو نادان ہو یا صغیر السن و تو ظاہر ہے کہ اس کا خلع لینا ولی کی اجازت کے بغیر درست نہیں ہے جیسے کہ دوسرے معاملات میں ہوتا ہے اور ولی کی اجازت بھی دیگر امور کی طرح ہے۔ جیسے کسی صغیر السن (لڑکا ہو یا لڑکی) یا نادان کی بیع یا کرایہ پر لینا دینا وغیرہ ولی کی اجازت پر موقوف ہے اسی طرح خلع کا معاملہ بھی ہے، اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس قدر ضرور ہے کہ ولی کے لیے حلال نہیں کہ اسے کسی ایسے معاملے کی اجازت دے جس میں اس (عورت) کا نقصان ہو یا اس کی مصلحت نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ (عبدالرحمٰن السعدی)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 593

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ