سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(804) بہت بوڑھی یا بہت چھوٹی عمر والی کی عدت

  • 18411
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-27
  • مشاہدات : 745

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت کو طلاق ہوئی اور اسے ساڑھے چار ماہ اگر کوئی عورت بہت بوڑھی ہو یا چھوٹی عمر کی ہو کہ ابھی بالغ نہ ہوئی ہو تو کیا ان کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ عدت پوری کریںاپنی طلاق کا علم ہوا تو اس کو عدت گزارنی ہو گی یا اس کی عدت پوری ہو چکی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں، ایسی بوڑھی عورت جسے مردوں کی طرف رغبت نہ ہو، یا صغر السن جو بالغ نہ ہوئی ہو، ان پر عدت وفات ہے، کہ چار ماہ دس دن عدت گزاریں۔ اور اگر بیوی حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، جیسے کہ آیت کریمہ کے عموم کا تقاضا ہے:

﴿وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَرونَ أَزو‌ٰجًا يَتَرَبَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَربَعَةَ أَشهُرٍ وَعَشرًا ...﴿٢٣٤﴾...سورة البقرة

’’اور جوتم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، تو وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک روکے رکھیں۔"

اور حاملہ کے لیے فرمایا:

﴿وَأُولـٰتُ الأَحمالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعنَ حَملَهُنَّ...﴿٤﴾... سورةالطلاق

’’اور حمل والیاں ان کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہو جائے۔‘‘

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 573

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ