سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(798) دورانِ عدت نکاح کا پیغام

  • 18405
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 1696

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت اپنے شوہر سے علیحدہ ہوئی اور ابھی وہ عدت میں ہے کہ اسے ایک آدمی نے نکاح کا پیغام دیا ہے، اور وہ اسے خرچ بھی دے رہاہے، تو کیا یہ عمل جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو عورت اپنے ایام عدت میں ہو اسے صراحت کے ساتھ نکاح کا پیغام دینا جائز نہیں ہے، خواہ وہ وفات کی عدت میں کیوں نہ ہو، اور اس ہر مسلمانوں کا اتفاق و اجماع ہے، تو عدت طلاق میں بطریق اولیٰ جائز نہیں۔ اور جس نے ایسے کیا ہے، چاہئے کہ اسے سزا دی جائے تاکہ اس سے دوسروں کو عبرت اور نصیحت ہو۔ ایسے مرد اور مخطوبہ عورت دونوں کو سزا دی جانی چاہئے اور اسے اس عورت سے نکاح سے روک دیا جائے، تاکہ اسے اپنے مطلب کے برعکس سزا ہو۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 570

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ