سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(728) کتابیہ سے شرعی طریقے سے نکاح کرنا

  • 18335
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-19
  • مشاہدات : 281

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی نے کتابیہ سے شرعی اسلامی طریقے سے نکاح کیا ہو تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ پھر دوبارہ چرچ میں جا کر پادری وغیرہ کے سامنے اپنے اس نکاح کا اعلان و اظہار کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی صاحب ایمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ جب اس کا نکاح کسی مسلمان یا کتابیہ عورت کے ساتھ شرعی اسلامی طریقے سے ہو گیا ہو تو چرچ میں جا کر پادری وغیرہ کے سامنے اس کا اعلان و اظہار کرے۔ کیونکہ اس میں ان کے اطوار نکاح میں ان کی مشابہت ہے۔ نیز ان کے دینی شعائر، معاہد، علماء و احبار کی توقیر لازم آتی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی لبس الشھرة،حدیثک4031ومسند احمد بن حنبل:50/2،حدیث:5114،5115ومصنف ابن ابی شیبة:121/4،حدیث:19401۔)

’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔‘‘

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 519

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ