سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(376) استعمال والی چیزوں پر زکوۃ

  • 1832
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-27
  • مشاہدات : 598

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے پاس ایک گاڑی ہے جو کہ بطور ٹیکسی اجرت پر بھی چلتی ہے اور ذاتی استعمال میں بھی آتی ہے۔ بتائیں کہ اس گاڑی سے جو ہمیں ماہانہ نفع ملتا ہے کتنی زکوٰۃ ادا کریں گے یا کہ کل گاڑی کی اصل زر کی زکوٰۃ بھی ادا کریں گے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے پاس ایک گاڑی ہے جو کہ بطور ٹیکسی اجرت پر بھی چلتی ہے اور ذاتی استعمال میں بھی آتی ہے۔ بتائیں کہ اس گاڑی سے جو ہمیں ماہانہ نفع ملتا ہے کتنی زکوٰۃ ادا کریں گے یا کہ کل گاڑی کی اصل زر کی زکوٰۃ بھی ادا کریں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گاڑی اگر آپ نے تجارت کی خاطر لے رکھی ہے اور اس کے فروخت ہونے تک کرایہ یا ذاتی ضرورت میں استعمال کر رہے ہیں تو پھر گاڑی کی قیمت اور نفع حاصل شدہ دونوں کو جمع کر کے کل حاصل جمع پر زکوٰۃ ہے اور اگر گاڑی آپ نے ذاتی ضرورت یا کرایہ یا ذاتی ضرورت اور کرایہ دونوں کی خاطر لے رکھی ہے تو پھر گاڑی سے حاصل شدہ کرایہ پر زکوٰۃ ہے گاڑی پر نہیں ہے نہ اس کی قیمت خرید پر اور نہ اس کی موجودہ قیمت پر ہاں اگر آپ اس گاڑی کو کسی وجہ سے فروخت کر دیتے ہیں تو پھر اس مال کو اپنے دوسرے مال میں ملا کر زکوٰۃ ادا کریں ۔ اختصار کے باعث تفصیلی یا اجمالی دلائل پیش کرنے سے قاصر ہوں۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

زکٰوۃ کے مسائل ج1ص 272

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC