سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(375) قرض کے پیسوں پر زکوۃ

  • 1831
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-27
  • مشاہدات : 689

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے مکان بنانے کے لیے ایک بینک سے قرضہ لیا جس میں سے کچھ رقم بچا کر دوسرے بینک میں جمع کروا دی ہے جس سے میں منافع لے رہا ہوں اور اس رقم کا ایک سال ہو گیا ہے لیکن میں نے زکوٰۃ نہیں نکالی کیونکہ وہ قرضہ کی رقم ہے اور قرض لی گئی جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ نہیں نکالی جاتی آیا اس رقم پر زکوٰۃ ہے یا نہیں اور جو منافع میں لے رہا ہوں وہ جائز ہے کہ نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرضہ پر لی ہوئی رقم کی زکاۃ قرضہ دینے والے کے ذمہ ہوتی ہے البتہ آپ کا اس رقم کو ایک بینک سے لینا اور اسے سود دینا دوسرے بینک میں جمع کروا کر سود لینا بالکل ناجائز اور حرام ہے جس قدر جلدی ممکن ہو اس سے جان چھڑائیں ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

زکٰوۃ کے مسائل ج1ص 271

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ