سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(373) مقروض پر زکٰوۃ

  • 1829
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-27
  • مشاہدات : 674

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
(1) ایک شخص نے کسی کو دس ہزار روپے قرض دیا ہوا ہے دو تین سال کے بعد واپس ملنے کی امید ہے کیا قرض دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ سال گزرنے کے بعد دس ہزار کی زکوٰۃ دے یا قرض لینے والے پر ضروری ہے کہ وہ اس رقم کی زکوٰۃ اداکرے ۔
(2) ایک آدمی پر بیس ہزار روپے قرض ہے اور اس کے پاس ۱۵ ہزار روپے مالیت کا سونا ہے کیا وہ سونے کی زکوٰۃ سے قرض ادا کر سکتا ہے یا کہ نہیں ۔ یا پھر اس پر زکوٰۃ ضروری ہے یا نہیں ۔ کیونکہ وہ مقروض ہے ۔ وضاحت فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(1) ایک شخص نے کسی کو دس ہزار روپے قرض دیا ہوا ہے دو تین سال کے بعد واپس ملنے کی امید ہے کیا قرض دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ سال گزرنے کے بعد دس ہزار کی زکوٰۃ دے یا قرض لینے والے پر ضروری ہے کہ وہ اس رقم کی زکوٰۃ اداکرے ۔

(2) ایک آدمی پر بیس ہزار روپے قرض ہے اور اس کے پاس ۱۵ ہزار روپے مالیت کا سونا ہے کیا وہ سونے کی زکوٰۃ سے قرض ادا کر سکتا ہے یا کہ نہیں ۔ یا پھر اس پر زکوٰۃ ضروری ہے یا نہیں ۔ کیونکہ وہ مقروض ہے ۔ وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(1) قرض پر دی ہوئی رقم کی زکاۃ قرض دینے والے پر ہوتی ہے نہ کہ قرض لینے والے پر اور اگر قرض لینے والے پر زکاۃ ادا کرنے کی شرط عائد کر دی جائے تو یہ ناجائز ہے اور اگر مقروض اس ناجائز شرط کی پابندی کرتے ہوئے قرض پر لی ہوئی رقم کی زکاۃ ادا کرے تو یہ سود کے ضمن میں آئے گی یا پھر قرض دینے والا اس کی ادائیگی کر دے ۔

(2) صورت مسئولہ میں وہ سونے کی زکاۃ سے اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا کیونکہ زکاۃ دینے والا زکاۃ کو اپنی ذات پرصرف نہیں کر سکتا ۔ صورت مسئولہ میں مقروض پر زکاۃ ضروری ہے کیونکہ وہ نصابی مال کا مالک ہے زکاۃ ادا کرنے کے بعد باقی مال سے وہ اپنی حاجات پوری کرے قرض کی ادائیگی بھی اس کی حاجت میں شامل ہے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

زکٰوۃ کے مسائل ج1ص 270

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ