سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(646) ملاپ کے لیے رخصتی شرط نہیں؟

  • 18253
  • تاریخ اشاعت : 2017-02-18
  • مشاہدات : 159

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا عقد نکاح ہو چکا ہے، اور میرا شوہر جسے ہم ایک فاضل شخصیت سمجھتے ہیں، اس نے مجھ سے کہا ہے کہ عقد ہو جانے کے بعد زوجین میں ملاپ کے حرام ہونے پر کتاب و سنت سے کوئی دلیل نہیں ہے، یہ مسئلہ بس اجتہادی ہے،کیونکہ نبی علیہ السلام کے دور میں یہ صورت نہ ہوتی تھی۔ اور علماء میں سے بعض رخصتی کی شرط کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے۔ تو اس مسئلے میں حق و صواب کیا ہے؟ اور اس نے مجھ سے یہ بھی کہا ہے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو میری وارث ہو گی؟ اس بارے میں صحیح کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان تمام مسائل کا مرجع شریعت ہی ہے۔ اگر کسی میاں بیوی کا آپس میں جنسی ملاپ نہیں ہوا ہے، تو شوہر کی وفات کی صورت میں عورت اس کی وارث ہو گی، اور اسے باتفاق علماء عدت وفات گزارنی ہو گی۔ اور مسئلہ مباشرت (قبل از رخصتی)، تو صحیحین میں یہ حدیث ثابت ہے، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(إن أحق الشروط أن يوفى به ما استحللتم به الفروج)

’’سب شرطوں میں سے اہم ترین شرط جو پوری کیے جانے کے لائق ہے، وہ ہے جس سے تم کوئی عصمت اپنے لیے حلال بناتے ہو۔‘‘ (صحیح بخاری،کتاب الشروط،باب الشروب فی المھر عند عقد النکاح،حدیث:2572،وصحیح مسلم،کتاب النکاح،باب الوفاءبالشروط فی النکاح،حدیث:1418وسنن النسائی،کتاب النکاح،باب الشروط فی النکاح،حدیث:3281وسنن ابی داود،کتاب النکاح،باب الرجل یشترط لھا دارھا،حدیث:2139وسنن الترمذی،کتاب النکاح،باب الشرط عند عقد النکاح،حدیث:1127)فتویٰ میں مذکور الفاظ سنن النسائی کی روایت کے ہیں اور مسلم کے الفاظ کے زیادہ قریب ہیں البتہ دوسری کتب میں الفاظ کا معمولی فرق ہے۔

اگر پیغام دینے والے سے لڑکی کے ولی نے کہا ہو کہ میں تجھے اپنی بیٹی نکاح کر دیتا ہوں اس شرط پر کہ جب تک تو مکان کا انتظام نہیں کر لیتا تو اس پر داخل نہیں ہو گا۔ تو دیکھنا یہ ہے کہ آیایہ شرط صحیح ہے یا باطل۔ ظاہر ہے کہ یہ شرط صحیح ہے اور شریعت کہتی ہے کہ سب شرطوں سے بڑھ کر پوری کیے جانے کے لائق وہ شرط ہے جس سے تم نے عصمتوں کو حلال کیا ہو۔ اور اب اگر یہ شخص عقد کے بعد یہ کہتا ہے کہ یہ شرط باطل ہے تو اس طرح سے عقد بھی باطل ہو جائے گا۔

اصول فقہ میں شرط کی تعریف یہ ہے جس کے نہ ہونے سے چیز کا عدم لازم آتا ہو، مگر اس کے ہونے سے چیز کا وجود یا عدم لازم نہ ہو۔ مثلا وضو نماز کے لیے شرط ہے،  جب تک وضو نہ ہو کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا، وضو کے بغیر نماز معدوم اور باطل ہو گی (مگر وضو کر لینے کے بعد نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا ضروری نہیں ہے) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاویٰ میں ایسے ہی فرمایا ہے اور اصولی حضرات ایسے ہی کہتے ہیں۔

اس صاحب نے پہلے خود ہی ایک شرط قبول کی، اور نکاح ہو جانے کے بعد کہتا ہے کہ یہ شرط باطل ہے، اس طرح تو نکاح باطل ہو جائے گا، کیونکہ یہ ایک باطل شرط پر مبنی ہے۔ ([1])


[1] مذکورہ بالا حدیث عین حق ہے اور واجب ہے کہ نکاح کی شرط پوری کی جائے۔مگر یہ کہنا کہ شرط پوری کیے بغیر نکاح ہی باطل ہے،یہ محل نظر ہے۔مثلاً اسی مذکورہ حدیث کی رو سے شوہر مکان مہیا نہ کرسکا اور اس نے اپنی اس بیوی سے ملاپ کرلیا،یا کسی صورت اپنی اس بیوی کو لے بھاگا تو کیا اس جوڑے کو"زناکار"کہا جائے گا اور ان پر شرعی حد نافذ ہوگی؟ظاہر ہے کہ یہ زانی نہیں ہیں،ان پر کوئی حد نہیں ہوگی،یہ شخص صرف ایک جرم کا مرتکب ہوا جو شرعی ہے اور اضافی بھی،کہ حسب وعدہ شرط مکان مہیا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔اسے کہا جائے گا کہ اپنی شرط پوری کرو،ورنہ بیوی کو طلاق دو۔

یہی وجہ ہے کہ بعض علمائے کرام نے شرطوں کی دو قسمیں بتائی ہیں:شرط صحت،شرط کمال۔مسئلہ نکاح میں ولی کا ہونا شرط صحت ہے،ولی کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں ہے۔اور حق مہر شرط کمال ہے۔اگر حق مہر کے معاملے میں شوہر دھوکہ کرے تو یہ جھوٹ اور دھوکہ ہوگا،جس کی سزا کسی دوسری صورت میں ہوگی نکاح وہ حیث الاصل صحیح ہوگا۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 457

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ